مجتبی خامنہ ای کا سپریم لیڈر بننا خطے کے لئے مفید ہے یا مضر یہ تو وقت کے ساتھ ہی پتہ چلے گا، طاقت کے کھیل میں فوری نتائج کم ہی نکلتے ہیں اور اکثر فیصلے وقت کی کسوٹی پر ہی اپنی حقیقت ظاہر کرتے ہیں

March 9, 2026

بنوں کے علاقے مزنگہ میں 30 سے 35 دہشت گردوں کے حملے کو پولیس اور مقامی عوام نے مشترکہ طور پر ناکام بنا دیا۔ شدید مقابلے کے بعد حملہ آور زخمی حالت میں فرار ہونے پر مجبور ہو گئے

March 9, 2026

پاکستان اپنی لڑائی لڑ رہا ہے، اپنی مغربی سرحد کو محفوظ بنا رہا۔ بفرزون بنا رہا۔ افغان طالبان کو اب بھی اگر سمجھ نہیں آئی تو پھر وہ اپنا نصف ملک تاجک، ازبک، ہزار اتحاد کے ہاتھوں گنوا بیٹھیں گے اور واخان کاریڈور پر بھی پاکستانی کنٹرول ہوسکتا ہے۔

March 9, 2026

احمد مسعود نے کہا ہے کہ طالبان کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کو پناہ دینے کے باعث افغانستان عوام کے لیے قید خانہ بن گیا ہے

March 9, 2026

پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان پر کابل میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے پاکستان کے خلاف جنگی کاروائیاں کرنے کا الزام لگایا ہے، جبکہ طالبان نے طویل محاذ آرائی کی دھمکی دی ہے

March 9, 2026

نوجوانی میں وہ ایران عراق جنگ کے دوران مختصر مدت کے لیے فوجی خدمات بھی انجام دے چکے ہیں۔ بعد میں انہوں نے پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ قریبی روابط استوار کیے اور طویل عرصے تک اپنے والد کے قریبی حلقے میں ایک بااثر شخصیت کے طور پر کام کرتے رہے۔

March 9, 2026

افغانستان دہشت گردوں کی جنت اور عوام کے لیے قید خانہ بن چکا ہے: احمد مسعود

احمد مسعود نے کہا ہے کہ طالبان کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کو پناہ دینے کے باعث افغانستان عوام کے لیے قید خانہ بن گیا ہے
احمد شاہ مسعود نے کہا ہے کہ طالبان کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کو پناہ دینے کے باعث افغانستان عوام کے لیے قید خانہ بن گیا ہے،

احمد مسعود نے افغانستان کی موجودہ صورتحال کو طالبان کے اقدامات کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں 200 سے زائد دہشت گرد گروہ فعال ہیں، جس نے خطے کے لیے خطرات بڑھا دیے ہیں

March 9, 2026

احمد مسعود کا یہ بیان افغانستان کے بدلتے ہوئے سیاسی و سکیورٹی منظرنامے میں ایک کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ نہ صرف ماضی کی غلطیوں کا اعادہ کر رہے ہیں بلکہ طالبان کی موجودہ حکمرانی کی نوعیت پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔ احمد شاہ مسعود کا کہنا ہے ہے کہ افغانستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی حکمران طبقے نے بین الاقوامی عسکریت پسند تنظیموں کو پناہ دی، اس کا خمیازہ عام افغان عوام کو بھگتنا پڑا۔ آج جیسا کہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ 200 کے قریب دہشت گرد گروہ کابل اور دیگر علاقوں میں فعال ہیں، یہ صورتحال محض ایک سکیورٹی چیلنج نہیں بلکہ ایک عالمی خطرہ بن چکی ہے۔ یہ عسکریت پسند گروہ نہ صرف خطے کے ممالک کے لیے خطرہ ہیں بلکہ خود افغان معاشرے کی بنیادوں کو بھی کھوکھلا کر رہے ہیں۔

صعوبت بھری زندگی

احمد مسعود نے بجا طور پر یہ ذکر کیا ہے کہ افغانستان اب اپنے ہی عوام کے لیے ایک قید خانے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ خاص طور پر خواتین کی تعلیم اور روزگار پر پابندیوں، اظہارِ رائے کی آزادی کے سلب ہونے اور معاشی بدحالی نے افغان شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ اس صورتحال میں، طالبان کی حکمرانی کو ‘دہشت گردوں کے لیے جنت’ اور ‘عوام کے لیے قید خانہ’ کے دو متضاد بیانیوں کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔

نفرت اور جارحیت

اس بیان کا سب سے اہم پہلو احمد مسعود کی جانب سے ‘احتیاط اور ذمہ داری’ کا پیغام ہے۔ وہ طالبان کے اقدامات سے پیدا ہونے والی ناراضی کو ریاست یا قوم کے خلاف نفرت میں بدلنے کے حق میں نہیں ہیں۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ افغانستان کا مستقبل طالبان کی مخالفت میں جارحیت پر نہیں، بلکہ اس تفریق کو سمجھنے پر منحصر ہے کہ “طالبان کی پالیسیاں” اور “افغان قوم کی بقا” دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ ان کا یہ موقف خطے کے ان تمام ممالک کے لیے ایک بصیرت ہے جو طالبان کے رویے سے نالاں ہیں لیکن افغانستان کی سالمیت کو بھی برقرار دیکھنا چاہتے ہیں۔

مستقبل کے حوالے سے یہ بات واضح ہے کہ جب تک طالبان اقتدار بین الاقوامی اصولوں اور عوام کی امنگوں کے مطابق نہیں ڈھلے گا، افغانستان کا سفارتی اور معاشی بحران برقرار رہے گا۔ احمد مسعود کی یہ تنبیہ ایک ایسے سیاسی فریم ورک کی ضرورت پر زور دیتی ہے جہاں نفرت کے بجائے مکالمے اور انتہا پسندی کے بجائے سماجی شمولیت کو ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

مجتبی خامنہ ای کا سپریم لیڈر بننا خطے کے لئے مفید ہے یا مضر یہ تو وقت کے ساتھ ہی پتہ چلے گا، طاقت کے کھیل میں فوری نتائج کم ہی نکلتے ہیں اور اکثر فیصلے وقت کی کسوٹی پر ہی اپنی حقیقت ظاہر کرتے ہیں

March 9, 2026

بنوں کے علاقے مزنگہ میں 30 سے 35 دہشت گردوں کے حملے کو پولیس اور مقامی عوام نے مشترکہ طور پر ناکام بنا دیا۔ شدید مقابلے کے بعد حملہ آور زخمی حالت میں فرار ہونے پر مجبور ہو گئے

March 9, 2026

پاکستان اپنی لڑائی لڑ رہا ہے، اپنی مغربی سرحد کو محفوظ بنا رہا۔ بفرزون بنا رہا۔ افغان طالبان کو اب بھی اگر سمجھ نہیں آئی تو پھر وہ اپنا نصف ملک تاجک، ازبک، ہزار اتحاد کے ہاتھوں گنوا بیٹھیں گے اور واخان کاریڈور پر بھی پاکستانی کنٹرول ہوسکتا ہے۔

March 9, 2026

پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان پر کابل میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے پاکستان کے خلاف جنگی کاروائیاں کرنے کا الزام لگایا ہے، جبکہ طالبان نے طویل محاذ آرائی کی دھمکی دی ہے

March 9, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *