اقوامِ متحدہ کی مطابق طالبان ایک مسلح تحریک سے شفاف اور جواب دہ ریاستی نظام کی طرف منتقل ہونے میں ناکام رہے ہیں اور ان کے سکیورٹی اداروں میں احتساب کا شدید فقدان ہے۔

August 11, 2026

پنجگور میں انٹیلی جنس پر مبنی کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے 5 خوارج کو ہلاک کر دیا، ہلاک دہشت گردوں میں اہم کمانڈر بھی شامل ہے۔

August 11, 2026

مکہ دفاعی معاہدے نے بھارت اور اسرائیل کی تزویراتی نیندیں اڑا دیں، بھارتی میڈیا نے اسے خطے میں طاقت کا نیا توازن قرار دے دیا۔

August 11, 2026

افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے بدخشاں میں طالبان پر بڑے حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے 11 جنگجوؤں کو ہلاک اور 3 کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے۔

August 11, 2026

شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے اہم خوارج دہشت گرد زکریا کو ہلاک کر دیا ہے۔

August 11, 2026

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا ملک بھر کو ڈی چوک بنا دینے کا اعلان کوئی نیا رجحان نہیں بلکہ پی ٹی آئی کی اسی پرانی حکمتِ عملی کا تسلسل ہے جس میں ریاستی اداروں پر دباؤ ڈالنے کے لیے سڑکوں کا رخ کرنا معمول رہا ہے۔

August 11, 2026

افغانستان دہشت گردوں کی جنت اور عوام کے لیے قید خانہ بن چکا ہے: احمد مسعود

احمد مسعود نے کہا ہے کہ طالبان کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کو پناہ دینے کے باعث افغانستان عوام کے لیے قید خانہ بن گیا ہے
احمد شاہ مسعود نے کہا ہے کہ طالبان کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کو پناہ دینے کے باعث افغانستان عوام کے لیے قید خانہ بن گیا ہے،

احمد مسعود نے افغانستان کی موجودہ صورتحال کو طالبان کے اقدامات کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں 200 سے زائد دہشت گرد گروہ فعال ہیں، جس نے خطے کے لیے خطرات بڑھا دیے ہیں

March 9, 2026

احمد مسعود کا یہ بیان افغانستان کے بدلتے ہوئے سیاسی و سکیورٹی منظرنامے میں ایک کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ نہ صرف ماضی کی غلطیوں کا اعادہ کر رہے ہیں بلکہ طالبان کی موجودہ حکمرانی کی نوعیت پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔ احمد شاہ مسعود کا کہنا ہے ہے کہ افغانستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی حکمران طبقے نے بین الاقوامی عسکریت پسند تنظیموں کو پناہ دی، اس کا خمیازہ عام افغان عوام کو بھگتنا پڑا۔ آج جیسا کہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ 200 کے قریب دہشت گرد گروہ کابل اور دیگر علاقوں میں فعال ہیں، یہ صورتحال محض ایک سکیورٹی چیلنج نہیں بلکہ ایک عالمی خطرہ بن چکی ہے۔ یہ عسکریت پسند گروہ نہ صرف خطے کے ممالک کے لیے خطرہ ہیں بلکہ خود افغان معاشرے کی بنیادوں کو بھی کھوکھلا کر رہے ہیں۔

صعوبت بھری زندگی

احمد مسعود نے بجا طور پر یہ ذکر کیا ہے کہ افغانستان اب اپنے ہی عوام کے لیے ایک قید خانے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ خاص طور پر خواتین کی تعلیم اور روزگار پر پابندیوں، اظہارِ رائے کی آزادی کے سلب ہونے اور معاشی بدحالی نے افغان شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ اس صورتحال میں، طالبان کی حکمرانی کو ‘دہشت گردوں کے لیے جنت’ اور ‘عوام کے لیے قید خانہ’ کے دو متضاد بیانیوں کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔

نفرت اور جارحیت

اس بیان کا سب سے اہم پہلو احمد مسعود کی جانب سے ‘احتیاط اور ذمہ داری’ کا پیغام ہے۔ وہ طالبان کے اقدامات سے پیدا ہونے والی ناراضی کو ریاست یا قوم کے خلاف نفرت میں بدلنے کے حق میں نہیں ہیں۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ افغانستان کا مستقبل طالبان کی مخالفت میں جارحیت پر نہیں، بلکہ اس تفریق کو سمجھنے پر منحصر ہے کہ “طالبان کی پالیسیاں” اور “افغان قوم کی بقا” دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ ان کا یہ موقف خطے کے ان تمام ممالک کے لیے ایک بصیرت ہے جو طالبان کے رویے سے نالاں ہیں لیکن افغانستان کی سالمیت کو بھی برقرار دیکھنا چاہتے ہیں۔

مستقبل کے حوالے سے یہ بات واضح ہے کہ جب تک طالبان اقتدار بین الاقوامی اصولوں اور عوام کی امنگوں کے مطابق نہیں ڈھلے گا، افغانستان کا سفارتی اور معاشی بحران برقرار رہے گا۔ احمد مسعود کی یہ تنبیہ ایک ایسے سیاسی فریم ورک کی ضرورت پر زور دیتی ہے جہاں نفرت کے بجائے مکالمے اور انتہا پسندی کے بجائے سماجی شمولیت کو ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

اقوامِ متحدہ کی مطابق طالبان ایک مسلح تحریک سے شفاف اور جواب دہ ریاستی نظام کی طرف منتقل ہونے میں ناکام رہے ہیں اور ان کے سکیورٹی اداروں میں احتساب کا شدید فقدان ہے۔

August 11, 2026

پنجگور میں انٹیلی جنس پر مبنی کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے 5 خوارج کو ہلاک کر دیا، ہلاک دہشت گردوں میں اہم کمانڈر بھی شامل ہے۔

August 11, 2026

مکہ دفاعی معاہدے نے بھارت اور اسرائیل کی تزویراتی نیندیں اڑا دیں، بھارتی میڈیا نے اسے خطے میں طاقت کا نیا توازن قرار دے دیا۔

August 11, 2026

افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے بدخشاں میں طالبان پر بڑے حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے 11 جنگجوؤں کو ہلاک اور 3 کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے۔

August 11, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *