افغانستان میں طالبان سے وابستہ مذہبی حلقوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف ‘جہاد’ کے فتووں اور اشتعال انگیز بیانات میں تیزی آگئی ہے، جس نے خطے میں سکیورٹی صورتحال اور نظریاتی کشیدگی کو ایک نئے رخ پر ڈال دیا ہے۔
حالیہ دنوں میں طالبان کے قریبی حلقوں اور بعض ممتاز علماء، جن میں ملا عبدالحمید حماسی جیسے نام شامل ہیں، کی ایسی ویڈیوز منظر عام پر آئی ہیں جن میں پاکستان کے خلاف مسلح تصادم کو نہ صرف جائز بلکہ ‘فرضِ عین’ قرار دے کر جنگجوؤں کو اس میں شامل ہونے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ ان بیانات نے ان خدشات کو تقویت دی ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو ایک بار پھر پڑوسی ممالک کے خلاف مذہبی بیانیے کے تحت بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ محض انفرادی بیانات نہیں بلکہ ایک منظم رجحان ہے جسے افغان طالبان کی خاموش حمایت یا کم از کم چشم پوشی حاصل ہے۔ اسلام کی ان مسخ شدہ تعبیرات کے ذریعے سیاسی تنازعات کو مذہبی رنگ دے کر تشدد کو ہوا دی جا رہی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب افغانستان میں تحریکِ طالبان پاکستان، القاعدہ اور ہزاروں دیگر غیر ملکی جنگجوؤں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں، علماء کے یہ فتوے عسکریت پسندی کے لیے ایندھن کا کام کر رہے ہیں۔
ملاها و روحانیون طالبان خواستار «جهاد» در برابر پاکستان شدند
— Aamaj News (@aamajnews_24) March 2, 2026
شماری از ملاها و روحانیون وابسته به گروه طالبان با انتشار نوارهایی جنگجویان این گروه را به حمله بر پاکستان تشویق کردهاند. در یکی از این نوارها، عبدالحمید حماسی، روحانی طالبان، درگیری با پاکستان را «جهاد» توصیف کرده… pic.twitter.com/2ucwszKzR4
ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ریاست کے خلاف جنگ کو ‘فرضِ عین’ قرار دینا سفارتی و سرحدی اختلافات کو مستقل دشمنی میں بدلنے کی خطرناک کوشش ہے۔ یہ صورتحال طالبان کے ان دعوؤں کی بھی نفی کرتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب منبر و محراب سے سرحد پار حملوں کی ترغیب دی جائے، تو دہشت گرد گروہوں کے لیے عملی میدان مزید وسیع ہو جاتا ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔