افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف سرگرم مسلح مزاحمتی گروہوں نے اپنی عسکری کارروائیوں کا دائرہ ملک کے طول و عرض میں پھیلا دیا ہے۔ شمالی اور وسطی صوبوں سے لے کر طالبان کے روایتی جنوبی گڑھ تک سکیورٹی فورسز، انٹیلی جنس ہیڈکوارٹرز اور انتظامی ڈھانچے کو منظم طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان بڑھتی ہوئی کارروائیوں نے کابل انتظامیہ کے حفاظتی نظام کے لیے سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔
افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ (اے یو ایف) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق تنظیم نے ستمبر کے دوران طالبان رجیم کے خلاف مجموعی طور پر 68 آپریشنز کیے۔ ان حملوں میں 102 طالبان اہلکار ہلاک اور 48 زخمی ہوئے۔ تنظیم نے صوبہ غور، ہلمند، قندھار اور زابل میں قائم فوجی و انتظامی تنصیبات کو براہِ راست نشانہ بنایا۔
اے یو ایف کے مطابق 29 ستمبر کو صوبہ غور کے دارالحکومت فیروزکوہ میں طالبان کے گورنر آفس پر حملہ کیا گیا، جس میں گورنر کا 1 محافظ ہلاک اور 8 زخمی ہوئے۔ 30 ستمبر کو قندھار شہر میں ایک انٹیلی جنس افسر کو نشانہ بنایا گیا۔ 2 اکتوبر کو ارغنداب کے علاقے سربند میں ایک سکیورٹی اہلکار کو ہلاک کیا گیا، جبکہ صوبہ زابل میں ملا عمر کے مزار کی حفاظت پر مامور ابوبکر نیٹ ورک سے وابستہ طالبان رکن بلال کو مارنے کا دعویٰ کیا گیا۔
مزارِ شریف اور پکتیا میں راکٹ حملے
نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ (این آئی ایف) نے شمالی اور مشرقی علاقوں میں گوریلا اور راکٹ کارروائیوں میں شدت پیدا کر دی ہے۔ 30 ستمبر کو مزارِ شریف میں طالبان کے چھٹے ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس ہیڈکوارٹر پر شدید راکٹ حملہ کیا گیا۔ اس کارروائی میں ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس مرکز کے ڈپٹی چیف قاری نصیر احمد فاتح سمیت 5 اہلکار ہلاک اور 4 شدید زخمی ہوئے، جبکہ عمارت، رابطے کے آلات اور تمام تر انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا۔
اس سے قبل 29 ستمبر کو شام چھ بجے این آئی ایف کے جنگجوؤں نے صوبہ پکتیا کے ضلع اریوب زئی کے علاقے سپینہ شگہ میں طالبان کی ایک اہم چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا۔ اس راکٹ حملے میں 7 طالبان اہلکار مارے گئے اور 2 رینجر گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہوئیں۔ 2 اکتوبر کو صوبہ ہلمند کے صدر مقام لشکر گاہ اور ملحقہ علاقوں میں بھی ایک حفاظتی چوکی کو نشانہ بنایا گیا، جہاں 4 طالبان اہلکار ہلاک ہوئے۔
این آر ایف کی کارروائی
نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) نے شمالی صوبے بغلان میں اپنی پوزیشن مضبوط کرتے ہوئے طالبان پر رات کے وقت کارروائیاں شروع کی ہیں۔ این آر ایف کی جانب سے بدھ، 30 ستمبر کی رات قریباً 11 بجے بغلان کے ضلع فرنگ میں طالبان کے ٹھکانے پر حملہ کیا گیا، جس کے دوران 3 طالبان اہلکار ہلاک اور 2 زخمی ہوئے۔ حملے کے بعد فرنٹ کے جنگجو بغیر کسی جانی نقصان کے محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے۔
بڑھتے ہوئے چیلنجز
قندھار، زابل اور ہلمند جیسے خطوں میں، جنہیں طالبان کا تاریخی مرکز سمجھا جاتا ہے، انٹیلی جنس اور عسکری چیک پوسٹوں کا براہِ راست نشانہ بننا ظاہر کرتا ہے کہ مزاحمتی قوتیں اب روایتی گوریلا طریقوں سے نکل کر اسٹریٹجک مراکز تک رسائی حاصل کر رہی ہیں۔ بیک وقت کئی صوبوں میں جاری ان کارروائیوں نے طالبان کے سکیورٹی اور انتظامی ڈھانچے پر شدید دباؤ پیدا کر دیا ہے۔
دیکھیے: نورستان کامدیش میں طالبان کی چوکیاں مزاحمتی فورسز کے قبضے میں