کورٹ آف آربیٹریشن (پی سی اے) نے بھارت کو بگلیہار اور کشینگنہ منصوبوں کا عملی ڈیٹا فراہم کرنے کا حکم دیا، مگر 9 فروری 2026 کی ڈیڈ لائن کے باوجود نئی دہلی خاموش رہا، جو انڈس واٹرز ٹریٹی کی تعمیل میں غیر ذمہ دارانہ رویے اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کو ظاہر کرتا ہے۔

February 10, 2026

افغانستان کی سرحدی دخل اندازی اور دہشت گردی کے واقعات نے خطے میں خطرات بڑھا دیے ہیں، تاجکستان کو جدید ہتھیار فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جبکہ طالبان حکومت دہشت گرد گروپوں کے لیے محفوظ ٹھکانہ بن چکی ہے

February 10, 2026

وہ افراد جو بار بار “لاپتہ” قرار دیے جاتے رہے، حقیقت میں گمشدہ نہیں بلکہ بی ایل اے اور بی ایل ایف کی مسلح کارروائیوں میں سرگرم چھپے ہوئے دہشت گرد ہیں

February 10, 2026

خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گرد تنظیمیں مقامی افراد کو معلومات کی فراہمی روکنے اور خوف پھیلانے کے لیے نشانہ بنا رہی ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حکمت عملی عوامی مزاحمت کو کمزور کرنے کی کوشش ہے

February 10, 2026

پاکستان نے کرکٹ کے میدان میں اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہتے ہوئے بھارت کے ساتھ میچ کے انعقاد کی منظوری دے دی

February 10, 2026

پی ٹی آئی کے رکنِ قومی اسمبلی جنید اکبر نے پارلیمانی بینچز سے اظہارِ خیال کا موقع نہ ملنے پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے پارلیمانی کمیٹی سے علیحدگی اختیار کر لی

February 10, 2026

افغان سرزمین: علاقائی دہشت گردی کا مرکز، سرحدی حملے اور بین الاقوامی خطرات

افغانستان کی سرحدی دخل اندازی اور دہشت گردی کے واقعات نے خطے میں خطرات بڑھا دیے ہیں، تاجکستان کو جدید ہتھیار فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جبکہ طالبان حکومت دہشت گرد گروپوں کے لیے محفوظ ٹھکانہ بن چکی ہے
افغانستان کی سرحدی دخل اندازی اور دہشت گردی کے واقعات نے خطے میں خطرات بڑھا دیے ہیں، تاجکستان کو جدید ہتھیار فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جبکہ طالبان حکومت دہشت گرد گروپوں کے لیے محفوظ ٹھکانہ بن چکی ہے

روس کی قیادت میں سی ایس ٹی او تاجکستان کو جدید ہتھیار فراہم کرے گا تاکہ افغان سرحد سے ہونے والی دہشت گردی اور حملوں کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے

February 10, 2026

افغانستان کی سرحدوں کے ساتھ ہمسایہ ممالک میں دہشت گردی، سرحدی دخل اندازی اور مسلح حملے باقاعدگی سے رونما ہو رہے ہیں۔ افغان۔ تاجک سرحد پر بار بار ہونے والے واقعات کے بعد روس کی قیادت میں قائم کولیکٹو سیکیورٹی ٹریٹی آرگنائزیشن (سی ایس ٹی او) نے تاجک سرحدی افواج کو جدید ہتھیار اور آلات فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا تاکہ افغانستان سے تاجکستان میں ہونے والی دخل اندازی اور حملوں کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔

26 نومبر 2025 کو بدخشان، افغانستان سے کوادروکاپٹر کے ذریعے تاجکستان میں ایک چینی سائٹ کو نشانہ بنایا گیا، جس میں تین چینی شہری ہلاک ہوئے۔ 30 نومبر 2025 کو ایک اور حملے میں چین روڈ اینڈ برج کارپوریشن کے دو کارکن مارے گئے، جس سے چار دن میں پانچ چینی شہری ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے۔ 18 جنوری 2026 کو افغانستان سے دہشت گردوں کی سرحدی دخل اندازی ناکام بنائی گئی، جبکہ 29 جنوری 2026 کو مسلح اسمگلرز افغانستان سے تاجکستان میں داخل ہوئے اور تاجک سرحدی افواج کے ساتھ تصادم میں ہلاک ہوئے، اور بڑی مقدار میں ہتھیار، منشیات اور آلات ضبط کیے گئے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 20 سے زائد بین الاقوامی اور علاقائی دہشت گرد تنظیمیں فعال ہیں، جن میں تقریباً 13,000 غیر ملکی دہشت گرد جنگجو شامل ہیں، جن کا تعلق ٹی ٹی پی، آئی ایس آئی ایل کے، القاعدہ، اے کیو آئی ایس، آئی ایم یو، ای ٹی آئی ایم/ٹی آئی پی، جماعت انصار اللہ اور دیگر گروہوں سے ہے۔ یہ گروہ پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ ساتھ چینی شہریوں، علاقائی رابطہ منصوبوں اور اسٹریٹجک بنیادی ڈھانچے کے لیے بھی براہِ راست خطرات پیدا کرتے ہیں۔

طالبان حکومت نے افغانستان کو دہشت گرد تنظیموں کے لیے محفوظ ٹھکانہ بنا دیا ہے، جہاں وہ آزادانہ حرکت، آپریشنل جگہ اور تحفظ حاصل کرتے ہیں، جبکہ دہشت گرد بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ طالبان کے زیر سرپرستی 23,000 سے زائد مدارس میں تعلیم کے بجائے نظریاتی تربیت پر زور دیا جاتا ہے، جس سے انتہا پسندی کو سرحد پار فروغ ملتا ہے۔ خواتین پر پابندیاں اور اقتصادی و تعلیمی استثنا غربت، علیحدگی اور انتہا پسندی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتے ہیں۔

ایسی صورت حال میں افغانستان ایک جمہوری و عالمی قوانین کے سائے میںکام نہیں کر رہا بلکہ دہشت گردی، منشیات، ہتھیاروں کی اسمگلنگ اور انتہاء پسندی کے ذریعے عدم تحفظ برآمد کر رہا ہے۔ پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی جمہوریوں کو سرحدی دخل اندازی، حملے اور اقتصادی خلل کا سامنا ہے، جبکہ علاقائی تجارتی راستے، توانائی کے منصوبے اور رابطہ منصوبے بھی خطرے میں ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں مشترکہ حکمت عملی، انٹیلی جنس شیئرنگ، سرحدی تعاون، مالی نگرانی اور یکساں سفارتی دباؤ ناگزیر ہے۔ افغانستان کو بین الاقوامی دہشت گردی کا مرکز تسلیم کیا جانا چاہیے، نہ کہ صرف ایک علاقائی مسئلہ۔


متعلقہ مضامین

کورٹ آف آربیٹریشن (پی سی اے) نے بھارت کو بگلیہار اور کشینگنہ منصوبوں کا عملی ڈیٹا فراہم کرنے کا حکم دیا، مگر 9 فروری 2026 کی ڈیڈ لائن کے باوجود نئی دہلی خاموش رہا، جو انڈس واٹرز ٹریٹی کی تعمیل میں غیر ذمہ دارانہ رویے اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کو ظاہر کرتا ہے۔

February 10, 2026

وہ افراد جو بار بار “لاپتہ” قرار دیے جاتے رہے، حقیقت میں گمشدہ نہیں بلکہ بی ایل اے اور بی ایل ایف کی مسلح کارروائیوں میں سرگرم چھپے ہوئے دہشت گرد ہیں

February 10, 2026

خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گرد تنظیمیں مقامی افراد کو معلومات کی فراہمی روکنے اور خوف پھیلانے کے لیے نشانہ بنا رہی ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حکمت عملی عوامی مزاحمت کو کمزور کرنے کی کوشش ہے

February 10, 2026

پاکستان نے کرکٹ کے میدان میں اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہتے ہوئے بھارت کے ساتھ میچ کے انعقاد کی منظوری دے دی

February 10, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *