الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور ضلع سوات سے منتخب رکنِ صوبائی اسمبلی ڈاکٹر امجد علی کے خلاف اہم کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن اسلام آباد نے ڈاکٹر امجد علی کو 3 فروری 2026 کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے ایم پی اے کو یہ طلبی آمدن سے زائد اثاثوں کے معاملے پر کی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن نے ڈاکٹر امجد علی کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے مالیاتی گوشواروں، اثاثوں اور آمدن کے ذرائع سے متعلق مکمل وضاحت پیش کریں۔

الیکشن کمیشن حکام کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں منتخب نمائندوں کے اثاثوں کی جانچ پڑتال کے عمل میں تیزی لائی جا رہی ہے، تاکہ شفافیت اور احتساب کے عمل کو مؤثر بنایا جا سکے۔ اسی سلسلے میں ڈاکٹر امجد علی کے اثاثوں کا ریکارڈ بھی زیرِ جائزہ لایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگر فراہم کردہ وضاحت غیر تسلی بخش قرار دی گئی تو الیکشن کمیشن قانونی کارروائی کا دائرہ مزید وسیع کر سکتا ہے، جس میں نااہلی سمیت دیگر اقدامات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
ڈاکٹر امجد علی یا پی ٹی آئی کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا، تاہم سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔