متحدہ عرب امارات سے وابستہ تجزیہ نگار امجد طہٰ کا اصل چہرہ اب مکمل طور پر بے نقاب ہو چکا ہے، جو خطے میں اسرائیلی مفادات کے ایک بے لگام ترجمان اور ‘ٹروجن ہارس’ کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ امجد طہٰ کو تسلسل کے ساتھ بین الاقوامی فورمز پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور دیگر اعلیٰ صیہونی حکام کے ساتھ بغل گیر اور قریبی مشاورت کرتے دیکھا گیا ہے، جس سے ان کی اصل وفاداریوں پر مہرِ تصدیق ثبت ہو گئی ہے۔
امجد طہٰ کو مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور امن کی بحالی کے لیے پاکستان اور ترکیہ کی جانب سے کی جانے والی مخلصانہ مصالحانہ کوششوں پر شدید اعتراض ہے۔ وہ خطے میں کسی بھی قسم کی سفارت کاری اور ثالثی کے بجائے جنگ کے پھیلاؤ اور تزویراتی محاذ آرائی کی وکالت کرتے ہیں، جو کہ خالصتاً صیہونی ڈیزائن کا حصہ ہے۔ ان کا ایجنڈا واضح طور پر نیتن یاہو کے ان عزائم سے میل کھاتا ہے جو خطے میں امن کے بجائے انتشار کے خواہاں ہیں۔
خلیجی قیادت کے لیے خطرناک مشورے
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ امجد طہٰ جیسے عناصر کے مشوروں پر عمل کرنا خلیجی قیادت کے لیے شدید خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ ان کی ترغیب دی گئی پالیسیاں خطے کو ایک ایسی لامتناہی جنگ کی طرف دھکیل دیں گی جہاں عرب اور ایرانی میدانِ جنگ میں ایک دوسرے کا لہو بہائیں گے، اور اس تباہی کے ملبے پر صیہونی ریاست اپنے ‘گریٹر اسرائیل’ کے خواب کی تکمیل کے لیے قدم آگے بڑھائے گی۔
عرب مؤقف اور اسرائیلی بیانیہ
امجد طہٰ ‘ابراہیم کارڈز’ کے پردے میں تل ابیب کے لیے عرب مؤقف کا سودا کرنے میں مصروف ہیں۔ ان کے تجزیے اور کمنڑی محض اسرائیلی سکیورٹی پروپیگنڈے کی بازگشت ہیں، جس میں وہ ایران اور اس کے اتحادیوں کو بالکل اسی مخصوص رنگ میں پیش کرتے ہیں جیسا کہ تل ابیب کا مطالبہ ہوتا ہے۔ ان کی تحریروں اور تقاریر میں کسی آزاد عرب نقطہ نظر کی کوئی جھلک دکھائی نہیں دیتی، بلکہ وہ ایک نظریاتی فٹ سولجر کے طور پر اسرائیلی ترجیحات کو خلیج میں نافذ کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
متوازن اور پائیدار سفارتی راستہ
ان تمام تنقیدی مہمات کے باوجود پاکستان کی حکمتِ عملی دور رس نتائج کی حامل ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ تمام فریقین کے ساتھ مواصلاتی راستے کھلے رکھے جائیں تاکہ جنگ کے دائرہ کار کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔ اگرچہ امجد طہٰ جیسے عناصر اس مصالحانہ موقف کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم پاکستان سفارت کاری کے اس راستے پر قائم ہے جہاں نتائج اگرچہ سست ہوتے ہیں مگر خطے کے لیے پائیدار امن کی ضمانت فراہم کرتے ہیں۔

صیہونی ایجنڈے کی تکمیل
سوشل میڈیا پر امجد طہٰ کی حالیہ سرگرمیاں ان کے “موساد” کے پے رول پر ہونے کے الزامات کو مزید تقویت دے رہی ہیں۔ انہوں نے اپنی تازہ ترین ٹویٹ’ جو اوپر موجود ہے’ میں پاکستان اور ترکیہ کو ‘ماضی’ قرار دے کر صیہونی ایجنڈے کے عین مطابق عرب ممالک کو اکسانے کی مذموم کوشش کی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مسلم لبادے میں چھپا یہ ‘صیہونی مہرہ’ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے دیرینہ اور اسٹریٹجک تعلقات کو سبوتاژ کرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ پاکستان ایسے صیہونی ایجنٹوں کے بیانات کو یکسر مسترد کرتا ہے، کیونکہ ایک مخصوص تنخواہ دار ایجنٹ کی ہرزہ سرائی دو برادر ممالک کے گہرے تعلقات میں دراڑ نہیں ڈال سکتی۔ امجد طہٰ کی جانب سے مصالحتی کوششوں کے خلاف زہر افشانی دراصل اس صیہونی خوف کا اظہار ہے جو خطے میں مسلمانوں کے اتحاد اور جنگ بندی کی صورت میں اسرائیل کو لاحق ہے
دیکھیے: مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کا تعاون ناگزیر ہے: پاکستان