ایمنسٹی انٹرنیشنل ساؤتھ ایشیا نے 5 جنوری 2026 کو پاکستان کے ستائیسویں آئینی ترمیم کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا۔ اس بیان میں انسانی حقوق کی تنظیم نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی 27ویں آئینی ترمیم نے عدلیہ کی آزادی کو کمزور کیا ہے اور یہ ترمیم ملک میں قانون کی حکمرانی اور منصفانہ عدالتی نظام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اس ترمیم کے تحت ایک وفاقی آئینی عدالت قائم کی گئی ہے جو سپریم کورٹ سے بالاتر حیثیت رکھتی ہے، جبکہ اس عدالت میں اختیارات ایسے ادارے کے پاس مرکوز ہو گئے ہیں جس پر ایگزیکٹو اثر و رسوخ کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اس ترمیم کو عجلت میں منظور کیا گیا اور اس دوران نہ تو عدلیہ سے بامعنی مشاورت کی گئی اور نہ ہی قانونی برادری کو اعتماد میں لیا گیا، جس کے نتیجے میں بعض سینئر ججز کے استعفے سامنے آئے، جو عدلیہ کے اندر مزاحمت کی علامت قرار دیے گئے۔
ایمنسٹی نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ ترمیم کے بعد عدالتی تقرریوں میں ایگزیکٹو کنٹرول بڑھ گیا ہے اور صدر و وزیر اعظم کو اہم ججز کی تقرری کا اختیار دے دیا گیا ہے، جس سے جوڈیشل کمیشن کو بائی پاس کیا جا سکتا ہے اور سیاسی مداخلت کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ ترمیم ان سابق اقدامات کا تسلسل ہے جن کے ذریعے عدالتی تقرریوں کو سیاست زدہ کیا گیا، ججز کو ہٹانے کے دائرۂ کار کو وسیع کیا گیا، تبادلے بطور سزا استعمال ہوئے اور نگرانی و دباؤ کے ذریعے خوف کی فضا پیدا کی گئی۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ترمیم کے ذریعے صدر اور سینئر عسکری حکام کو تاحیات استثنیٰ دیا گیا ہے، جو قانون کے سامنے برابری اور پاکستان کی بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کے منافی ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ ترمیم ایک متنازع پارلیمانی اکثریت کے ذریعے منظور کی گئی، جس سے قبل اپوزیشن کے اہم رہنماؤں کو نااہل قرار دیا گیا، اس لیے اس کی جمہوری ساکھ پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔ بیان کے اختتام پر ایمنسٹی نے مطالبہ کیا کہ ترمیم کا فوری جائزہ لیا جائے تاکہ اسے بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیار سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
دوسری جانب پاکستان میں اس بیان پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا یہ طرزِ عمل ایسے ظاہر کرتا ہے جیسے کسی خود مختار ریاست کے آئینی فیصلوں کی منظوری دینا اس کا اختیار ہو۔ ان کے مطابق پاکستان کے قوانین، عدالتی نظام اور آئینی اصلاحات ایک داخلی معاملہ ہیں جو ملک کے آئینی طریقۂ کار اور پارلیمانی عمل کے ذریعے طے کیے جاتے ہیں۔ مشورہ قابلِ قبول ہو سکتا ہے، مگر دباؤ ڈالنے کی مہم کو مداخلت قرار دیا جا رہا ہے۔
تنقید کرنے والوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جب پاکستان کا معاملہ ہو تو بین الاقوامی تنظیموں کی آواز غیر معمولی طور پر بلند ہو جاتی ہے، جبکہ مغربی ممالک میں ایگزیکٹو اختیارات میں اضافے، ہنگامی قوانین، نگرانی کے نظام یا سرکاری اہلکاروں کو تحفظ دینے جیسے اقدامات پر یہی تنظیمیں محتاط اور نرم زبان استعمال کرتی ہیں۔ اسے دوہرے معیار کی واضح مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید کہا گیا کہ اگر واقعی اصولوں کا اطلاق سب کے لیے یکساں ہو تو ہر ملک کے لیے ایک جیسا معیار ہونا چاہیے، لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہوتا۔ ناقدین کے مطابق یہ انتخابی ردعمل انسانی حقوق کے تحفظ سے زیادہ بیانیہ سازی اور سرخیوں پر اثرانداز ہونے کی کوشش معلوم ہوتا ہے۔
پاکستانی مؤقف میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ملک کو کسی غیر ملکی این جی او کی ضرورت نہیں جو یہ طے کرے کہ اس کے ادارے کس شکل میں ہونے چاہییں۔ آئینی مباحث، اصلاحات اور تنقید کا حق پاکستان کے عوام، عدلیہ، وکلا برادری، میڈیا اور سول سوسائٹی کے پاس ہے، نہ کہ بیرونی اداروں کے پاس۔
اسی طرح “مشاورت نہ ہونے” پر دیے گئے لیکچر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جہاں یہ مؤقف اپنایا گیا کہ کئی مغربی نظاموں میں اہم سیکیورٹی، نگرانی اور جنگی فیصلے بند کمروں میں کیے جاتے ہیں، مگر وہاں اس سطح کی تنقید سامنے نہیں آتی۔
ناقدین نے سوال اٹھایا کہ جب مغربی اتحادی ممالک احتجاج کچلتے ہیں، جبری بے دخلیاں کرتے ہیں یا طویل جنگیں بغیر جوابدہی کے جاری رکھتے ہیں تو اس نوعیت کا شور کیوں سنائی نہیں دیتا۔ ان کے مطابق اگر انسانی حقوق کے معیارات ملکوں کے حساب سے بدل جائیں تو یہ حقوق کا دفاع نہیں بلکہ مخصوص بیانیے کو فروغ دینا بن جاتا ہے۔
پاکستانی ردعمل میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان میں عدالتی نظام، بار کونسلز، سول سوسائٹی، آزاد میڈیا اور ایک باخبر عوام موجود ہیں جو ہر معاملے پر کھل کر بحث کرتے ہیں، اس لیے کسی بیرونی “نگران” یا “سرپرست” کی ضرورت نہیں۔ آخر میں واضح کیا گیا کہ پاکستان کی آئینی سمت کا فیصلہ صرف اور صرف پاکستان کے عوام کریں گے، اور یہ معاملہ کسی بیرونی دباؤ کے تابع نہیں ہو سکتا۔
دیکھیں: افغان سرحد بند ہونے سے پاکستان کی سکیورٹی صورتحال بہتر، دہشت گردی کے واقعات میں 17 فیصد کمی