امریکا کی ریاست ڈیلویئر میں پولیس نے ایک افغان نژاد امریکی طالبعلم لقمان خان کو حراست میں لے لیا ہے۔ حکام کے مطابق 25 سالہ لقمان خان یونیورسٹی آف ڈیلویئر کا انڈرگریجویٹ طالبعلم ہے اور اس کے قبضے سے مشین گن میں تبدیل ہونے والا اسلحہ، گولہ بارود، باڈی آرمور، دوربین اور حملوں سے متعلق ایک منصوبہ ساز ڈائری برآمد ہوئی ہے۔

پولیس کے مطابق اہلکار ایک پارک میں معمول کی چیکنگ کر رہے تھے جہاں انہیں رات گئے ایک سفید ٹویوٹا ٹیکوما مشکوک حالت میں کھڑی ملی۔ ڈرائیور نے گاڑی سے باہر آنے سے انکار کیا اور مزاحمت کی، جس کے بعد اسے حراست میں لیا گیا۔
تلاشی کے دوران گاڑی سے ملنے والی ڈائری میں پولیس اسٹیشن پر حملے کی تفصیلی منصوبہ بندی، جنگی تکنیک کی تحریریں اور یونیورسٹی آف ڈیلویئر پولیس ڈیپارٹمنٹ کی عمارت کے نقشے موجود تھے، جن میں مخصوص داخلی و خارجی راستوں کی نشاندہی بھی شامل تھی۔ ڈائری میں ایک پولیس افسر کا نام بھی تحریر تھا۔
مزید تحقیقات کے لیے ایف بی آئی کو شامل کیا گیا۔ وفاقی ایجنٹس نے ملزم کے گھر پر چھاپہ مار کر ایک ایسی پستول بھی قبضے میں لے لی جس میں غیرقانونی طور پر ایک “سوئچ” لگایا گیا تھا، جو اسے مکمل خودکار مشین گن میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
لقمان خان کے خلاف متعدد سنگین اسلحہ کے الزامات عائد کیے گئے ہیں جن میں میگزین گن رکھنے اور مہلک ہتھیار خفیہ طور پر لے جانے کے مقدمات شامل ہیں۔ حکام کے مطابق تفتیش مکمل ہونے تک ملزم کو یونیورسٹی کی تمام کیمپسز سے مکمل طور پر بین کر دیا گیا ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کیمپس میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور طلبہ کو ہر طرح کی مشکوک سرگرمی کی اطلاع دینے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
دیکھیں: دنیا بھر میں افغان طالبان کے خلاف ماحول بنتا جا رہا ہے