افغانستان میں طالبان کی انتقامی کارروائیاں تیز، گزشتہ تین ماہ کے دوران 184 سے زائد سابق افغان فوجیوں کو قتل کر دیا گیا۔

August 4, 2026

لندن میں بھارتی سفارتکار شری رام پرکاش کی کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مظاہرے میں باضابطہ شرکت نے اس کی بھارتی سرپرستی کا پول کھول دیا ہے۔

August 4, 2026

چودہ اگست آزادی کے جشن کے ساتھ خود احتسابی کا دن بھی ہے۔ قیامِ پاکستان کے 79 سال بعد یہ تجزیاتی جائزہ کہ ہم نے کن شعبوں میں کامیابیاں حاصل کیں اور کون سے خواب ابھی تشنہِ تعبیر ہیں۔

August 4, 2026

باجوڑ میں 11 جولائی کے آپریشن میں ہلاک دوسرا ٹی ٹی پی دہشت گرد افغان شہری احمد مخلص نکلا۔

August 4, 2026

کبل میں افغان خودکش بمبار کے حملے کے بعد پی ٹی ایم نے دہشت گردوں کی مذمت کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کے خلاف گمراہ کن بیانیے کا سہارا لیا ہے۔

August 4, 2026

تیراہ میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے بعد فتنہ الخوارج نے عوامی جذبات مجروح کرنے اور پراپیگنڈا پھیلانے کی کوشش شروع کر دی ہے۔

August 4, 2026

بھارتی فضائیہ کے دعوے اور زمینی حقائق کا تضاد

بھارتی فضائیہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو اعداد و شمار تشویشناک حد تک مایوس کن ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران 550 سے زائد فضائی حادثات اور 150 سے زائد پائلٹس کی ہلاکتیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بھارتی فضائیہ کا حفاظتی نظام ایک سنگین بحران کی لپیٹ میں ہے
بھارتی فضائیہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو اعداد و شمار تشویشناک حد تک مایوس کن ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران 550 سے زائد فضائی حادثات اور 150 سے زائد پائلٹس کی ہلاکتیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بھارتی فضائیہ کا حفاظتی نظام ایک سنگین بحران کی لپیٹ میں ہے

بھارتی فضائیہ کی کارکردگی اور حفاظت پر سنگین سوالات؛ حالیہ سخوئی طیارے کا حادثہ بھارتی دفاعی نظام کی ادارہ جاتی ناکامیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے

March 6, 2026

بھارتی ریاست آسام کے علاقے جورہاٹ سے روسی ساختہ سخوئی لڑاکا طیارے کا ریڈار سے اچانک غائب ہو جانا محض ایک تکنیکی حادثہ نہیں بلکہ یہ بھارتی دفاعی نظام کی ان گہری اور ادارہ جاتی کمزوریوں کا عکاس ہے جو طویل عرصے سے مخفی تھیں۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب نئی دہلی کی سیاسی و عسکری قیادت خطے میں جارحانہ بیانات، سرحدی کشیدگی اور علاقائی مداخلت کی سیاست میں مصروفِ عمل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو فضائیہ اپنے ہی طیاروں کو فضاؤں میں محفوظ رکھنے سے قاصر ہو، اس کے طاقتور ہونے کے دعوے صرف ایک “سفارتی بلبلے” کی حیثیت رکھتے ہیں۔

بھارتی فضائیہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو اعداد و شمار تشویشناک حد تک مایوس کن ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران 550 سے زائد فضائی حادثات اور 150 سے زائد پائلٹس کی ہلاکتیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بھارتی فضائیہ کا حفاظتی نظام ایک سنگین بحران کی لپیٹ میں ہے۔ میگ-21 جیسے طیاروں کو تو عالمی سطح پر “اڑتے ہوئے تابوت” کا نام دیا جا چکا تھا، لیکن اب ‘سخوئی’ اور ‘تیجس’ جیسے جدید کہلائے جانے والے طیاروں کا اس زمرے میں آنا یہ ثابت کرتا ہے کہ مسئلہ طیاروں کی ساخت کا نہیں، بلکہ دیکھ بھال اور دفاعی نضام کے ناقص ہونے کا ثبوت ہے۔

یہاں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ بھارت اپنی دفاعی اصلاحات پر توجہ دینے کے بجائے اپنی تمام تر توانائیاں علاقائی پراکسی سیاست اور ہمسایہ ممالک کے خلاف بیان بازی پر کیوں صرف کر رہا ہے؟ دفاعی خود انحصاری کے بلند بانگ دعوؤں کے باوجود ‘تیجس’ فلیٹ کا گراؤنڈ ہونا اور سول ایوی ایشن کا بحران جہاں نصف فضائی بیڑا تکنیکی خرابیوں کا شکار ہے اور پائلٹس و طیاروں کا تناسب عالمی معیار سے انتہائی نیچے گر چکا ہے۔ یہ سب ایک ایسی انتظامی ناکامی ہے جسے محض پروپیگنڈے سے چھپایا نہیں جا سکتا۔

تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو 2019 کا بالاکوٹ آپریشن ہو یا مئی 2025 کی فضائی جھڑپیں، بھارتی فضائیہ نے جنگی محاذ پر اپنی پیشہ ورانہ اہلیت کے حوالے سے دنیا کو مایوس کیا ہے۔ اپنے ہی ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنانا ہو یا مئی 2025 میں عالمی سطح پر ‘0-6’ کے شرمناک اعداد و شمار کا بوجھ اٹھانا، ان واقعات نے بھارتی دفاعی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ یاد رہے کہ جنگیں پائلٹس کی جوانمردی، تربیت کے معیار، نظام اور بروقت فیصلہ سازی پر ہوتا ہے، جس کا فقدان بھارتی فضائیہ کے ہر محاذ پر دکھائی دیتا ہے۔

کسی بھی فضائی قوت کی طاقت کا اصل محور طیاروں کی جدیدیت نہیں، بلکہ اس کا انسانی اور تکنیکی ‘سپورٹ سسٹم’ ہوتا ہے۔ جب ایک ایئر فورس اپنے ہی اثاثوں کو نشانہ بنانے لگے تو یہ کسی بیرونی دشمن کے خلاف نہیں، بلکہ اپنے ہی ‘کمانڈ اینڈ کنٹرول’ کے نظام کی ناکامی کا ثبوت ہوتا ہے۔ بھارتی فضائیہ کو آج ناقص تربیت، کمزور دیکھ بھال اور سپلائی چین میں مسلسل تاخیر جیسے تین بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔

نئی دہلی کے لیے نوشتہِ دیوار پڑھنے کا وقت آ چکا ہے۔ ایک ذمہ دار طاقت بننے کے لیے اشتعال انگیز بیانات سے زیادہ داخلی دفاعی نظام کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ اگر بھارت نے اپنی فضائیہ کو واقعی ‘آپریشنل’ بنانا ہے تو اسے سیاسی مہم جوئی ترک کر کے اپنی سپلائی چین، تربیتی مراکز اور دیکھ بھال کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا۔ بصورتِ دیگر، یہ حادثات اور تکنیکی ناکامیاں اس کی ساکھ کو مزید کمزور کرتی رہیں گی۔

یاد رہے، اسکور بورڈ پر جیتنے والی ٹیمیں بہت ہوتی ہیں، مگر فضاؤں میں برتری صرف وہی لیتا ہے جس کی تربیت، حکمت عملی اور نظم مضبوط ہو۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جو ریاست اپنے طیاروں کو محفوظ نہیں رکھ سکتی، وہ فضائی برتری کے بلند بانگ دعوے زیادہ دیر تک برقرار نہیں رکھ سکتی۔

متعلقہ مضامین

افغانستان میں طالبان کی انتقامی کارروائیاں تیز، گزشتہ تین ماہ کے دوران 184 سے زائد سابق افغان فوجیوں کو قتل کر دیا گیا۔

August 4, 2026

لندن میں بھارتی سفارتکار شری رام پرکاش کی کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مظاہرے میں باضابطہ شرکت نے اس کی بھارتی سرپرستی کا پول کھول دیا ہے۔

August 4, 2026

چودہ اگست آزادی کے جشن کے ساتھ خود احتسابی کا دن بھی ہے۔ قیامِ پاکستان کے 79 سال بعد یہ تجزیاتی جائزہ کہ ہم نے کن شعبوں میں کامیابیاں حاصل کیں اور کون سے خواب ابھی تشنہِ تعبیر ہیں۔

August 4, 2026

باجوڑ میں 11 جولائی کے آپریشن میں ہلاک دوسرا ٹی ٹی پی دہشت گرد افغان شہری احمد مخلص نکلا۔

August 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *