ایپل نے حکومتِ پاکستان کے مجوزہ موبائل و الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ فریم ورک کے تحت ملک میں آئی فون کی تیاری اور ریفربشنگ شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ابتدائی مرحلے میں دو سے تین سال پرانے آئی فونز کی مرمت اور ریفربشنگ کی جائے گی، جنہیں بعد ازاں برآمد کیا جائے گا۔ پہلے سال ری ایکسپورٹ کے ذریعے تقریباً 10 کروڑ ڈالر آمدن کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو حماد علی منصور کے مطابق کمپنی کی انتظامیہ نے رعایتی نرخوں پر زمین، 8 فیصد کارکردگی ترغیب (پرفارمنس انسینٹو) اور دیگر سہولیات کی درخواست کی ہے، جنہیں مجوزہ پالیسی میں شامل کر لیا گیا ہے۔ یہ فریم ورک وزیر اعظم شہباز شریف کی منظوری کا منتظر ہے۔
حکام کے مطابق ایپل اس سے قبل انڈونیشیا، ملیشیا اور انڈیا میں بھی اسی ماڈل پر کام کر چکی ہے، جہاں ابتدا پرانے فونز کی مرمت سے کی گئی اور بعد ازاں مقامی مینوفیکچرنگ کی جانب پیش رفت ہوئی۔
حکومت اس وقت موبائل فون ساز کمپنیوں کو 6 فیصد کارکردگی ترغیب دے رہی ہے، جسے بڑھا کر 8 فیصد کرنے کی تجویز زیر غور ہے تاکہ عالمی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری پر آمادہ کیا جا سکے۔ وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے نئی موبائل و الیکٹرانکس پالیسی کی مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے۔
حکومت کو توقع ہے کہ وزیر اعظم کے دورہ بیجنگ کے دوران طے پانے والی مفاہمتی یادداشتوں کے نتیجے میں چینی کمپنیوں کی جانب سے تقریباً 55 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری بھی متوقع ہے۔ نئی پالیسی کے تحت لیپ ٹاپ، ٹیبلیٹ، اسمارٹ واچز اور دیگر الیکٹرانک مصنوعات کی مقامی تیاری کو بھی فروغ دیا جائے گا تاکہ پاکستان کو خطے میں موبائل اور الیکٹرانکس برآمدات کا مرکز بنایا جا سکے۔
فریم ورک کے مطابق موبائل فونز میں مقامی پرزہ جات کے استعمال کو پہلے سال 12 فیصد سے بڑھا کر 35 فیصد تک لانے اور بعد ازاں 50 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مزید برآں مقامی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے 6 فیصد تک ایکسپورٹ لیوی عائد کرنے کی تجویز ہے، جس سے 62 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے۔ تاہم 50 ہزار سے 60 ہزار روپے تک قیمت کے فونز اس لیوی سے مستثنیٰ ہوں گے، جبکہ یہ اطلاق صرف ایک لاکھ روپے سے زائد قیمت کے فونز پر ہوگا۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اس سے نہ صرف برآمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع اور مقامی صنعت کے فروغ میں بھی مدد مل سکتی ہے۔