آج سے سات برس قبل 14 فروری 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے پلوامہ میں پیش آنے والا واقعہ محض ایک عسکری حادثہ نہیں تھا، بلکہ یہ جنوبی ایشیا کی جغرافیائی اور سیاسی بساط الٹنے کے لیے مودی سرکار کے ایک منظم اور خطرناک منصوبے کا نقطہ آغاز تھا۔ پاکستان نے روز اول سے ہی اس حقیقت پر زور دیا کہ بھارت نے اس واقعے کی شفاف تحقیقات کے بجائے اسے اپنے سیاسی مقاصد اور 2019 کے عام انتخابات میں ہندوتوا کے جذبات بھڑکانے کے لیے ایک ‘سیاسی ہتھیار’ کے طور پر استعمال کیا۔ پلوامہ کے لبادے میں نئی دہلی نے جس ‘نئے بھارت’ کا ڈھونگ رچایا، اس کی قیمت آج پورا خطہ عدم استحکام کی صورت میں چکا رہا ہے۔
پلوامہ کے فوری بعد فروری 2019 میں بالاکوٹ کی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور پھر پاکستان کے منہ توڑ جواب ‘آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ’ نے بھارتی جنگی جنون کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا۔ پاکستان نے ناصرف بھارتی طیارے گرائے بلکہ گرفتار پائلٹ کو رہا کر کے ایک ذمہ دار ایٹمی قوت ہونے کا ثبوت دیا، مگر مودی سرکار نے اس امن پسندی کو کمزوری سمجھ کر اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو مہمیز دی۔ اس پورے منظرنامے کا اصل مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنا اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت پر آخری وار کرنے کے لیے راہ ہموار کرنا تھا۔
اس سازش کا سیاہ ترین باب 5 اگست 2019 کو رقم ہوا، جب بھارتی پارلیمنٹ نے بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کو پیروں تلے روندتے ہوئے آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35-اے کو منسوخ کر دیا۔ آرٹیکل 35-اے محض ایک قانونی دفعہ نہیں تھی بلکہ یہ کشمیریوں کی شناخت، ان کی زمین اور ان کے مستقبل کا محافظ تھی۔ اس قانون کے تحت غیر کشمیریوں کو ریاست میں زمین خریدنے یا مستقل سکونت اختیار کرنے کی اجازت نہیں تھی، جس کا مقصد کشمیر کے مسلم اکثریتی تشخص کو برقرار رکھنا تھا۔ اس قانون کا خاتمہ دراصل مقبوضہ وادی میں ‘آبادیاتی دہشت گردی’ کا آغاز تھا، تاکہ وادی کے جغرافیے کو ہندو اکثریت میں بدل کر استصوابِ رائے کے امکان کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔
بھارت نے پلوامہ سے لے کر آرٹیکل 35-اے کے خاتمے تک جس ‘جارحانہ قوم پرستی’ کو فروغ دیا، اس نے سارک جیسی علاقائی تنظیموں کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ آج جنوبی ایشیا کا امن ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف پاکستان کا صبرو تحمل اور اصولی موقف ہے، تو دوسری طرف بھارت کی ہٹ دھرمی اور ہندوتوا کا فاشسٹ ایجنڈا۔ مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر رکھا ہے، جہاں انسانی حقوق کی پامالی اب ایک روزمرہ کا معمول بن چکی ہے۔
جب تک عالمی برادری بھارت کے ان غیر قانونی اقدامات کا نوٹس نہیں لیتی اور جب تک آرٹیکل 35-اے کی منسوخی جیسے سیاہ قوانین واپس نہیں لیے جاتے، خطے میں پائیدار امن ایک خواب رہے گا۔ پاکستان کا بیانیہ آج بھی دوٹوک ہے: کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی امنگوں اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ پلوامہ کی آڑ میں شروع کیا گیا بھارتی ڈرامہ اب اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں حق و صداقت کی فتح یقینی ہے اور کشمیریوں کا لہو رنگ لا کر رہے گا۔