مسلم کانفرنس کی امن ریلی پر جمعرات کو ہونے والے حملے کے بعد کشمیری سیاست میں ایک بار پھر ہنگامے کی فضا قائم ہوگئی۔ مقامی ذرائع کے مطابق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی فائرنگ سے چھ شہری زخمی ہوئے جنہیں فوری طبی امداد کے لیے مقامی ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
واقعے کی تفصیلات اور زخمیوں کی حالت
پولیس و انتظامیہ کے مطابق حملہ ریلی کے دوران پیش آیا جب شرکاء امن و عامہ کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ ابتدائی تفتیش میں بتایا گیا ہے کہ حملے میں استعمال ہونے والی فائرنگ عام شہری علاقوں میں کی گئی، جس سے متعدد افراد میں خوف و ہراس پیدا ہوگیا۔
زخمیوں میں دو کی حالت نازک بتائی جاتی ہے اور انہیں بہتر طبی سہولیات کے لیے راولپنڈی یا اسلام آباد ریفر کرنے کا امکان ہے۔
اشتہاری عناصر کی موجودگی کا انکشاف
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کی ریلی میں مبینہ طور پر اشتہاری اور مطلوب افراد کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔ مقامی لوگ اور انتظامیہ اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ ان عناصر نے ریلی کا رخ بدامن کرنے کے لیے استعمال کیا۔ اس موقع پر مقامی شہریوں نے احتجاج بھی ریکارڈ کروایا اور اشتہاری سرگرمیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا مطالبہ کیا۔
عوامی ردِ عمل اور سڑکوں پر احتجاج
واقعے کے خلاف عوام سراپا احتجاج ہیں اور عوامی ایکشن کمیٹی کی ہلڑ بازی و درندگی کے خلاف پورے علاقے میں غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ شہریوں نے ہڑتال کی کال اور بازار بندش کو عوام دشمن ایجنڈا قرار دیا اور لوگوں کو قانون ہاتھ میں نہ لینے کی اپیل کی گئی۔ اسکول، اسپتال اور مارکیٹیں بند رکھنے جیسے اقدامات کو بھی عوامی خودکشی کہا جا رہا ہے۔
وفاقی ردعمل: مذاکرات کا دروازہ کھلا ہے — وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے اس سے قبل کہا کہ حکومت نے 38 میں سے 36 مطالبات تسلیم کر لیے ہیں اور مذاکرات کا دروازہ کھلا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہڑتال کا کوئی جواز نہیں، اور معاملات کو میز مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔ وزیراعظم نے عوام سے پرامن رہنے اور انتشار پھیلانے والوں کی سازش ناکام بنانے کی اپیل بھی کی۔
مزید پڑھیں: https://htnurdu.com/shutter-down-protest-in-ajk
بھارتی فنڈنگ کے الزامات
یا د رہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی آج آزاد کشمیر بھر میں پہیہ جام ہڑتال کر رہی ہے اور 38 نکاتی ایجنڈا لے کر سامنے آئی ہے جس میں سے حکومت نے 36 مطالبات مان لیے ہیں جبکہ 2 مطالبات پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ تاہم اب اس واقعے کے بعد یہ احتجاج اور ہڑتال پرامن نہیں رہی۔
وزیراعظم آزاد کشمیر پہلے ہی اس احتجاج اور عوامی ایکشن کمیٹی کے پیچھے بھارتی فنڈنگ کے شواہد کی موجودگی کا دعوی کر چکے ہیں اور حیران کن طور پر بھارتی وزیر خارجہ راج ناتھ سنگھ نے بھی اپنے ایک بیان میں اس چیز کا اشارہ دیا ہے کہ آزاد کشمیر میں ایسی تحاریک کے پیچھے بھارت ملوث ہے۔
اپیل برائے تحفظِ املاک و قانون پر عملدرآمد
حکومت اور مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ املاک کو نقصان پہنچانا اپنے ہی مفاد کے خلاف ہے اور عوام کو پڑھے لکھے بچوں کے مستقبل کو محفوظ رکھنے کے لیے امن قائم رکھنا ہوگا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہریوں سے تعاون کی اپیل کی ہے اور ہنگامی صورتِ حال میں متعلقہ عناصر کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے۔
دیکھیں: جنوبی ایشیا میں امن مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر ممکن نہیں؛ ترک صدر اردوان