"> کابل بھی غیر محفوظ: آسٹریلیا کی افغانستان کے سفر پر سخت پابندی
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

آسٹریلیا نے اپنے شہریوں کو افغانستان کا سفر نہ کرنے کی ہدایت جاری کر دی

آسٹریلیا نے سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر اپنے شہریوں کو افغانستان کا سفر کرنے سے سختی سے روکتے ہوئے کابل سمیت پورے ملک کو غیر یقینی اور خطرناک قرار دے دیا ہے۔
کابل بھی غیر محفوظ: آسٹریلیا کی افغانستان کے سفر پر سخت پابندی

آسٹریلیا نے افغانستان میں سکیورٹی خطرات کے پیش نظر اپنے شہریوں کے لیے سخت ترین سفری ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔

July 2, 2026

آسٹریلیا نے سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر اپنے شہریوں کو افغانستان کا سفر کرنے سے سختی سے روکتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں صورتحال بدستور غیر یقینی اور خطرناک ہے۔ آسٹریلوی محکمہ خارجہ و تجارت کی جانب سے جاری تازہ سفری ایڈوائزری میں شہریوں کو واضح ہدایت دی گئی ہے کہ وہ افغانستان کا سفر کسی بھی صورت میں نہ کریں۔ حکام کے مطابق ماضی میں افغانستان میں آسٹریلوی شہری ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں جبکہ بعض افراد کو غیر قانونی طور پر حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

کابل بھی غیر محفوظ

ایڈوائزری میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان کا کوئی بھی حصہ مکمل طور پر محفوظ نہیں، حتیٰ کہ دارالحکومت کابل بھی سکیورٹی خطرات سے محفوظ نہیں۔ شہریوں کو سیاحت، کاروبار، ثقافتی سرگرمیوں یا خاندانی ملاقاتوں سمیت ہر قسم کے سفر سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔ آسٹریلوی حکام نے واضح کیا ہے کہ موجودہ حالات میں وہاں کسی بھی شہری کی حفاظت کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

دیگر ممالک

رپورٹ کے مطابق صرف آسٹریلیا ہی نہیں، بلکہ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور دیگر کئی ممالک بھی اپنے شہریوں کو افغانستان کے سفر سے متعلق اسی نوعیت کی سخت سفری ہدایات جاری کر چکے ہیں اور غیر ضروری سفر سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں۔ ان ممالک کی جانب سے بھی تسلسل کے ساتھ اپنے شہریوں کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ وہ موجودہ سیکیورٹی ماحول میں افغانستان جانے کے فیصلے سے باز رہیں۔

بین الاقوامی خدشات

اس حوالے سے تجزیہ کاروں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر مستحکم ہے اور مختلف ممالک کی جانب سے جاری ہدایات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر خدشات برقرار ہیں۔

مجموعی طور پر متعدد ممالک اپنے سفری مشوروں پر نظر ثانی کرتے ہوئے شہریوں کو افغانستان سے متعلق تازہ ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی تلقین کر رہے ہیں، جو افغان حکومت کے امن و امان کے دعوؤں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

دیکھیے: پکتیکا حملہ: جماعت الاحرار اور طالبان کے ارکان کی نمازِ جنازہ میں شرکت، شہری ہلاکتوں کا دعویٰ جھوٹا ثابت

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *