آسٹریلیا نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کو باضابطہ طور پر ایک ریاستی دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔ یہ تاریخی اقدام نئی قانون سازی کریمنل کوڈ ترمیمی (اسٹیٹ اسپانسرز آف ٹیررازم) ایکٹ 2025 کے تحت اٹھایا گیا ہے، جس کے تحت ایرانی پاسدارانِ انقلاب پہلی تنظیم ہے جسے اس زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔
مذکورہ فیصلے کی بنیاد خفیہ اطلاعات ہیں جن کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے گزشتہ سال 2024 میں آسٹریلیا میں یہودی برادری کے خلاف دو ممکنہ حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی سڈنی کے لیوس کونٹینینینٹل کچن اور میلبورن کے اعداس اسرائیل سینیگاگ کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتے تھے۔
آسٹریلوی حکومت نے مؤقف نے اپنایا ہے کہ ان مقامات پر حملوں کے پیچھے دراصل آسٹریلیا میں خوف و ہراس پھیلانے اور سہشت گردی پھیلانا تھی۔ وزیر خارجہ سینیٹر پینی وونگ کے مطابق ایران کی جانب سے آسٹریلیائی سرزمین پر کی گئی یہ کارروائیاں غیرمعمولی اور خطرناک تھیں جس کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاسدارانِ انقلاب تنظیم کے لیے آسٹریلیا میں اب کوئی جگہ نہیں ہے۔
اسی طرح وزیر داخلہ ٹونی برک نے اس اقدام کو ایرانی حکومت کے قابل مذمت رویے کا براہ راست جواب قرار دیا، جس سے سیکیورٹی اداروں کو انتہا پسندی کے خلاف مزید اختیارات حاصل ہوں گے۔ آسٹریلیائی قانون کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی کسی بھی قسم کی حمایت، بھرتی، تربیت یا مالی لین دین پر 25 سال تک کی قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔
جبکہ دوسری جانب ایرانی میڈیا نے ردعمل دیتے ہوئے آسٹریلیا کے فیصلے کو سیاسی اور متعصبانہ قرار دیا ہے۔