صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر سروسز چیفس نے اس کامیابی پر ٹیم کی تکنیکی مہارت اور لگن کو سراہا ہے۔

April 28, 2026

حالیہ دنوں میں باجوڑ، جنوبی وزیرستان اور چمن کے شہری علاقوں کو افغان حدود سے مارٹر گولوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس سے نہ صرف مکانات کو نقصان پہنچا بلکہ عام شہری بھی اس کی زد میں آئے۔

April 28, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اوپیک پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ یہ تنظیم تیل کی قیمتیں مصنوعی طور پر بڑھا کر دنیا کا استحصال کر رہی ہے۔

April 28, 2026

ٹرائیکا کے درمیان جاری جنگ کا جائزہ لینے سے حیران کن اسٹریٹجک نتائج سامنے آئے ہیں۔ امریکہ کی سپرمیسی کا سورج غروب ہونا شروع ہو گیا ہے اور اسرائیل کا ناقابلِ شکست ہونے کا بھرم بھی ٹوٹ چکا ہے۔ ایران کو تنہا سمجھنے کی ٹیکنیکل غلطی امریکہ کے لیے جگ ہنسائی کا باعث بنی، جبکہ پسِ پردہ حلیفوں نے جدید ٹیکنالوجی کو چاروں شانے چت کر دیا ہے۔

April 28, 2026

اسلام آباد میں پہلے ہائی لیول پاک-یورپی یونین بزنس فورم کا آغاز ہو گیا ہے، جس کا مقصد تجارت کو طویل مدتی سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور پائیدار صنعتی ترقی میں تبدیل کرنا ہے۔

April 28, 2026

کابل میں عوامی املاک کا عسکری استعمال جنیوا کنونشنز کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ شواہد کے مطابق ہسپتال کے نام پر ڈرونز اور خودکش حملہ آوروں کی تربیت نے اس مقام کی محفوظ حیثیت ختم کر کے اسے قانونی طور پر ایک جائز فوجی ہدف بنا دیا ہے۔

April 28, 2026

ریاستِ پاکستان کے خلاف مسلح جدوجہد جہاد نہیں بلکہ بغاوت ہے: پیغامِ پاکستان اور اکابرینِ امت کا متفقہ اعلامیہ

دستورِ پاکستان اور شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں فتنہ خوارج کی پُرتشدد کاروائیاں جہاد کے مقدس تصور کے منافی اور صریحاً ‘فساد فی الارض’ ہیں۔ متقدمین و متاخرین فقہائے امت کے فتاویٰ اور ‘پیغامِ پاکستان’ کے تاریخی اعلامیے کی رو سے ریاست کے خلاف مسلح بغاوت شرعاً حرام اور ناجائز ہے، کیونکہ جہاد کا شرعی اختیار کسی فرد یا گروہ کے بجائے فقط مسلم ریاست کا منصب ہے۔
ریاستِ پاکستان کے اسلامی دستور اور شریعتِ محمدی ﷺ کی روشنی میں فتنۃ الخوارج کے پُرتشدد اقدامات جہاد نہیں بلکہ 'فساد فی الارض' ہیں۔ 1800 سے زائد علمائے کرام کے متفقہ بیانیے 'پیغامِ پاکستان' اور متقدمین و متاخرین فقہاء کے فتاویٰ کے مطابق، ایک اسلامی ریاست کے خلاف مسلح بغاوت شرعاً حرام ہے، کیونکہ جہاد کا اعلان انفرادی گروہوں کا نہیں بلکہ صرف ریاست کا قانونی حق ہے۔

اسلامی تعلیمات اور آئینِ پاکستان دہشت گردی کو کُلی طور پر مسترد کرتے ہیں۔ شریعت کی رو سے معصوموں کا قتلِ عام 'فساد فی الارض' اور ناقابلِ معافی گناہ ہے، جبکہ ایسے گھناؤنے اقدامات کرنے والے گروہ درحقیقت 'خوارج' ہیں جن کا مقصد مذہب کی آڑ میں معاشرے میں انتشار پھیلانا ہے۔ اسی بناء پر علمائے امت اسے جہاد کے بجائے بغاوت قرار دیتے ہیں۔

April 28, 2026

ریاستِ پاکستان محض جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی اسلامی مملکت ہے، جس کی اساس اس محکم عقیدے پر استوار ہے کہ حاکمیتِ اعلیٰ صرف اللہ رب العزت کے لیے ہے اور اقتدار ایک مقدس امانت ہے۔ دستورِ پاکستان کی دفعہ 227 اس امر کی ضامن ہے کہ مملکت میں کوئی بھی قانون قرآن و سنت کے احکامات کے منافی یا متصادم وضع نہیں کیا جائے گا۔ جب ریاست کا کلی نظام اسلامی اصولوں کا آئینہ دار ہو، تو انتہا پسند گروہوں کی جانب سے کی جانے والی پُرتشدد کاروائیاں “جہاد” نہیں بلکہ صریحاً بغاوت اور ‘فساد فی الارض’ کے زمرے میں آتی ہیں۔

کفرِ بواح اور خوارج کا بیانیہ

دہشت گرد گروہ ریاست کے خلاف اپنے مسلح خروج کو جواز فراہم کرنے کے لیے “کفرِ بواح” کی اصطلاح کا سہارا لیتے ہیں، جو علمی طور پر لغو ہے۔ شرعی اصطلاح میں اس سے مراد وہ واضح کفر ہے جس میں کسی تاویل کی گنجائش نہ ہو اور جو دلیلِ قطعی سے ثابت ہو۔ اسی تناظر میں امام نوویؒ کے مطابق حکمران کے خلاف خروج صرف اسی صورت میں جائز ہے جب وہ ایسا کفر کرے جس پر اللہ کی طرف سے واضح دلیل موجود ہو۔ عصرِ حاضر کے ممتاز عالم مفتی محمد تقی عثمانی لکھتے ہیں کہ “کسی مسلم ریاست میں اسلامی قوانین کے نفاذ میں عملی کوتاہی ‘تقصیری معاملہ’ تو ہو سکتی ہے، لیکن اسکو کفرِ بواح قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ جب تک ریاست اسلام کو اپنا سرکاری مذہب مانتی ہے، اس کے خلاف ہتھیار اٹھانا حرام ہے۔

احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں

تاریخَ اسلام کا پہلا فتنہ ‘خوارج’ تھا جنہوں نے مسلمانوں کی تکفیر کی اور ان کا خون حلال سمجھا۔ احادیثِ مبارکہ میں ان کی واضح نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ آخری زمانے میں ایسے لوگ نکلیں گے جو عمر میں چھوٹے اور عقل کے کچے ہوں گے (بخاری: 5057)۔ وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کے پار نکل جاتا ہے ( صحیح مسلم: 1064)۔

متقدمین و متاخرین علماء

مسلم ریاست کے خلاف بغاوت کے متعلق فقہی تسلسل صدیوں پر محیط ہے۔ امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک ریاست کے خلاف طاقت کا استعمال کرنے والے ‘باغی’ ہیں جن کا قلع قمع کرنا ریاست کا فرض ہے۔ امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں کہ خوارج وہ ہیں جو گناہوں کی بنیاد پر مسلمانوں کو کافر قرار دے کر ان کا خون حلال سمجھتے ہیں۔ متاخرین میں علامہ شامیؒ ( صاحبِ فتاوی شامی) نے واضح کیا کہ طاقت کے زور پر ریاست کو چیلنج کرنے والے عصرِ حاضر کے خوارج ہیں۔ اسی طرح شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے مطابق ریاست کا استحکام دین کی بقا کے لیے ناگزیر ہے اور خروج کرنا ایک فتنہ عظیم ہے۔

معاصر مفکرین

عصرِ حاضر کے جید علماء نے جدید ریاست (جس سے مسلم ریاست مراد ہے) کے تناظر میں دہشت گردی کا مکمل رد کیا ہے۔ مفتی تقی عثمانی اور مفتی رفیع عثمانی کے مطابق پاکستان کا دستور اسلامی ہے، لہٰذا یہاں کی فوج اور پولیس کے خلاف لڑنا “بغاوت” اور “حرام” ہے۔ مولانا مودودی نے صراحت کی کہ مسلم معاشرے میں تبدیلی کا راستہ صرف تبلیغ اور آئینی جدوجہد ہے؛ خفیہ عسکری تنظیمیں بنانا دین میں “فتنہ” ہے۔ شیخ یوسف القرضاوی(صاحبِ فقہ الجہاد) نے واضح کیا کہ تکفیر اور معصوموں کا قتل ‘خارجیت’ کی علامت ہے اور جہاد کا اعلان انفرادی جتھوں کا نہیں بلکہ صرف ریاست کا حق ہے۔

پیغامِ پاکستان 1800 علماء کے فتاوی

آج سے چند سال قبل 2018 میں پاکستان کے جملہ مسالک کے 1800 سے زائد جید و ممتاز علماء نے ‘پیغامِ پاکستان’ کے ذریعے ایک تاریخی اعلامیہ جاری کیا۔ یہ کسی ایک مکتبہ فکر کی رائے نہیں بلکہ پورے ملک کے علماء کی متفقہ آواز ہے۔ اس فتوے کے تحت ریاستِ پاکستان کے خلاف مسلح جدوجہد شرعاً “بغاوت” ہے، خودکش حملے اسلام میں “حرام” ہیں، اور جہاد کا اعلان کرنے کا اختیار انفرادی گروہوں کو نہیں بلکہ صرف ایک جائز اسلامی ریاست کو حاصل ہے۔

پیغامِ پاکستان کے تحت تمام مکاتبِ فکر کے جید علماء نے متفقہ فتویٰ صادر کیا ہے؛ جن میں دیوبندی علماء سے مفتی محمد رفیع عثمانی، مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا فضل الرحمان، مولانا محمد حنیف جالندھری اور مفتی عبد الرحیم، بریلوی علماء میں سے مفتی منیب الرحمن اور ڈاکٹر محمد طاہر القادری، اہلحدیث علماء سے پروفیسر ساجد میر اور حافظ عبدالکریم، جبکہ اہل تشیع کی جانب سے علامہ ساجد علی نقوی اور علامہ ناصر عباس جعفری نمایاں ہیں۔ ان تمام جید اکابرین نے واضح طور پر یہ اعلان کیا ہے کہ انتہاء پسند گروہ درحقیقت خوارج کے نقشِ قدم پر چل کر دینِ اسلام کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔

انسانی جان کی حرمت اور جہاد کے ضوابط

اسلام انسانی زندگی کو مقدس ترین امانت قرار دیتا ہے۔ قرآنِ کریم کا واضح اعلان ہے: “جس نے ایک انسان کو ناحق قتل کیا، اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا” (المائدہ: 32)۔ نبی کریم ﷺ نے جنگ کے دوران بھی عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے سختی سے منع فرمایا (بخاری: 3015)۔ اس کے برعکس، پاکستان میں دہشت گرد گروہ مساجد، اسکولوں اور بازاروں کو نشانہ بنا کر “فساد فی الارض” پھیلاتے ہیں، جس کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں اور جس کی سزا دنیا و آخرت میں نہایت عبرتناک ہے۔

حاصلِ بحث اور نتیجہ

تحقیق سے یہ ثابت ہے کہ فتنۃ الخوارج کے اقدامات کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ گروہ مذہب کے لبادے میں ذاتی مفادات اور غیر ملکی ایجنڈے کی تکمیل کر رہے ہیں۔ نیز مذکورہ بالا تمام شرعی دلائل، احادیثِ نبوی ﷺ، فقہائے امت کے اقوال اور عصرِ حاضر کے جید علماء کے فتاویٰ اس حقیقت کو روزِ روشن کی طرح عیاں کرتے ہیں کہ اسلام کا مقدس نام استعمال کر کے ریاست اور شہریوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے گروہوں کا “جہاد” سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ ان کا ہر عمل شعوری یا لاشعوری طور پر اسلام کے عالمی تشخص کو مسخ کرنے اور مسلم معاشرے میں خون ریزی و انتشار پھیلانے کا سبب بن رہا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی دین متین کے نام پر انتہا پسندی اور تکفیر (دوسروں کو کافر قرار دینے) کا بیانیہ اپنایا گیا، اس نے صرف امتِ مسلمہ کو کمزور کیا۔ پاکستان جیسی نظریاتی ریاست، جہاں حاکمیتِ الٰہی کا اقرار دستور کی اساس ہے، وہاں کسی بھی مسلح جتھے کو یہ شرعی حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی مرضی کی تشریح نافذ کرنے کے لیے معصوم شہریوں کا خون بہائے یا قانون کو ہاتھ میں لے۔ اسلامی شریعت کی رو سے ایسے اقدامات “محاربہ” (خدا اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف جنگ) اور “فساد فی الارض” ہیں، جن کی سزا دنیا میں ذلت اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔

آج وقت کی ضرورت ہے کہ ہم بطور قوم اور امت ان گمراہ کن نظریات کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں۔ “پیغامِ پاکستان” کی صورت میں موجود قومی اتفاقِ رائے محض ایک دستاویز نہیں بلکہ ہماری بقا کا راستہ ہے۔ پاکستان کا تحفظ، اس کی افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حمایت اور فتنۂ خوارج کے فکری و عسکری تعاقب میں اپنا حصہ ڈالنا صرف ہمارا قومی فریضہ نہیں بلکہ ایک عظیم مذہبی ذمہ داری ہے۔ اسلام امن، سلامتی اور انسانیت کے احترام کا دین ہے، اور اس کی حقیقی روح کو انتہا پسندی کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیا جا سکتا۔

متعلقہ مضامین

صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر سروسز چیفس نے اس کامیابی پر ٹیم کی تکنیکی مہارت اور لگن کو سراہا ہے۔

April 28, 2026

حالیہ دنوں میں باجوڑ، جنوبی وزیرستان اور چمن کے شہری علاقوں کو افغان حدود سے مارٹر گولوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس سے نہ صرف مکانات کو نقصان پہنچا بلکہ عام شہری بھی اس کی زد میں آئے۔

April 28, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اوپیک پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ یہ تنظیم تیل کی قیمتیں مصنوعی طور پر بڑھا کر دنیا کا استحصال کر رہی ہے۔

April 28, 2026

ٹرائیکا کے درمیان جاری جنگ کا جائزہ لینے سے حیران کن اسٹریٹجک نتائج سامنے آئے ہیں۔ امریکہ کی سپرمیسی کا سورج غروب ہونا شروع ہو گیا ہے اور اسرائیل کا ناقابلِ شکست ہونے کا بھرم بھی ٹوٹ چکا ہے۔ ایران کو تنہا سمجھنے کی ٹیکنیکل غلطی امریکہ کے لیے جگ ہنسائی کا باعث بنی، جبکہ پسِ پردہ حلیفوں نے جدید ٹیکنالوجی کو چاروں شانے چت کر دیا ہے۔

April 28, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *