حالیہ دنوں میں باجوڑ، جنوبی وزیرستان اور چمن کے شہری علاقوں کو افغان حدود سے مارٹر گولوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس سے نہ صرف مکانات کو نقصان پہنچا بلکہ عام شہری بھی اس کی زد میں آئے۔
اسلام آباد میں پہلے ہائی لیول پاک-یورپی یونین بزنس فورم کا آغاز ہو گیا ہے، جس کا مقصد تجارت کو طویل مدتی سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور پائیدار صنعتی ترقی میں تبدیل کرنا ہے۔
کابل میں عوامی املاک کا عسکری استعمال جنیوا کنونشنز کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ شواہد کے مطابق ہسپتال کے نام پر ڈرونز اور خودکش حملہ آوروں کی تربیت نے اس مقام کی محفوظ حیثیت ختم کر کے اسے قانونی طور پر ایک جائز فوجی ہدف بنا دیا ہے۔
اسلام کے نام پر دہشت گردی پھیلانے والے گروہ درحقیقت ‘خوارج’ کے نقشِ قدم پر ہیں، جن کے خلاف 1800 سے زائد علمائے کرام کا متفقہ فتویٰ ‘پیغامِ پاکستان’ ایک واضح شرعی حجت ہے۔
ضلع باجوڑ کے سرحدی مقام لغاری میں افغان فورسز نے سویلین آبادی اور تجارتی مراکز کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد دکانوں اور مقامی املاک کو نقصان پہنچا۔
یونیسف نے افغانستان میں خواتین کی تعلیم اور روزگار پر پابندیوں کو مستقبل کے لیے سنگی خطرہ قرار دیتے ہوئے 25 ہزار خواتین ورکرز کی کمی کا خدشہ ظاہر کر دیا۔
باڑہ میں دہشت گرد کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران شہری نقصان سامنے آیا؛ ماہرین کے مطابق خوارجی عناصر شہری آبادی کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔