پاکستان محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی اسلامی ریاست ہے جہاں حاکمیتِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے۔ ملک کا دستور واضح طور پر اسلام کو سرکاری مذہب قرار دیتا ہے اور کسی بھی ایسے قانون کی گنجائش نہیں چھوڑتا جو قرآن و سنت کے منافی ہو۔ ماہرینِ شریعت کے مطابق جب ریاست کا ڈھانچہ اسلامی اصولوں پر استوار ہے، تو اس کے خلاف ہتھیار اٹھانا جہاد نہیں بلکہ ریاست کے خلاف سنگین بغاوت ہے۔
تعلیماتِ دین
حالیہ تجزیوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دہشت گرد گروہ اپنے مذموم سیاسی مقاصد اور غیر ملکی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے اسلامی اصطلاحات کا سہارا لیتے ہیں۔ قرآنِ کریم کی رو سے قانونی اتھارٹی کی اطاعت لازم ہے اور جو گروہ ریاست کو چیلنج کرتے ہیں، وہ درحقیقت ‘خوارج’ کی تاریخ دہرا رہے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں ایسے عناصر کو ‘جہنم کے کتے’ اور فتنہ پرور قرار دیتے ہوئے ان کی سرکوبی کا حکم دیا گیا ہے، کیونکہ ان کا قرآن پڑھنا محض دکھاوا ہے اور ان کے عمل کا دین سے کوئی تعلق نہیں۔
معصوم جانوں کا ضیاع
اسلام میں ایک معصوم انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے۔ دہشت گرد گروہوں کی جانب سے مساجد، اسکولوں اور عوامی مقامات پر حملے ‘فساد فی الارض’ کے زمرے میں آتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے جنگ کے دوران بھی عورتوں، بچوں اور غیر مسلح افراد کو نقصان پہنچانے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ ان واضح احکامات کی موجودگی میں دہشت گردی کو کسی بھی طور پر مذہبی جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا۔
علمائے کرام کا متفقہ فیصلہ
پاکستان کے تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے 1800 سے زائد جید علمائے کرام نے ‘پیغامِ پاکستان’ کے ذریعے یہ تاریخی فتویٰ دیا ہے کہ خودکش حملے اور مسلح جدوجہد قطعی طور پر حرام ہیں۔ یہ متفقہ بیانیہ واضح کرتا ہے کہ جہاد کا اعلان کرنا صرف ریاست کا اختیار ہے، کسی فرد یا گروہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے خونی کارروائیاں کرے۔
قومی و مذہبی فریضہ
آئینِ پاکستان اور اسلامی تعلیمات اس نکتے پر یکجا ہیں کہ دہشت گردی نہ صرف ایک جرم ہے بلکہ ایک عظیم گناہ بھی ہے۔ پاکستان کا دفاع کرنا اور معصوم جانوں کو ان فتنہ پرور عناصر سے بچانا ہر پاکستانی کا قومی اور مذہبی فریضہ ہے۔ خوارج کے نظریات کو مسترد کرنا ہی اسلام کی حقیقی خدمت اور ملکی استحکام کی ضمانت ہے۔