افغان طالبان کے ترجمان حمد اللہ فطرت کی جانب سے کنڑ کے صوبائی دارالحکومت اسد آباد اور ضلع منوگئی میں پاکستان کی جانب سے مبینہ گولہ باری اور شہری ہلاکتوں کے دعوؤں کو ماہرین اور دفاعی تجزیہ کاروں نے صریحاً گمراہ کن اور من گھڑت بیانیہ قرار دے دیا ہے۔
غیر مصدقہ دعوے
تفصیلات کے مطابق حمد اللہ فطرت نے دعویٰ کیا تھا کہ 27 اپریل کو پاکستانی فوج نے شہری علاقوں اور سید جمال الدین افغانی یونیورسٹی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں خواتین، بچوں اور طلبہ سمیت بھاری جانی نقصان ہوا۔ تاہم مستند ذرائع اور معتبر شواہد ان دعوؤں کی تصدیق کرنے میں ناکام رہے ہیں، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ بیانیہ طالبان کے اس مخصوص پراپیگنڈا کا تسلسل ہے جس کا مقصد عالمی سطح پر ہمدردی حاصل کرنا اور حقائق کو مسخ کرنا ہے۔
Today, April 27, 2026, the military regime of Pakistan once again conducted artillery shelling using mortars and rockets against multiple areas of Asadabad, the provincial capital of Kunar, as well as parts of Manogai District.
— Hamdullah Fitratحمدالله فطرت (@FitratHamd) April 27, 2026
In these attacks, which commenced at 2:00 PM,… pic.twitter.com/vnpTU2W6be
منظم نفسیاتی مہم
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان انتظامیہ کی جانب سے ہلاکتوں کے اعداد و شمار کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور تعلیمی اداروں سمیت حساس انسانی بنیادوں کا ذکر کرنا ایک منظم نفسیاتی آپریشن کا حصہ ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت بصری مواد اور جذباتی پیغامات کے ذریعے عوامی غصہ بھڑکانے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ افغان سرزمین سے ہونے والی سرحد پار دہشت گردی اور تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیوں سے عالمی برادری کی توجہ ہٹائی جا سکے۔
سفارتی ہتھیار اور حقائق
دستاویزی حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ طالبان انتظامیہ اکثر و بیشتر شہری نقصان کے من گھڑت دعوؤ کو بطور سفارتی ہتھیار استعمال کرتی ہے۔ ان الزامات کا مقصد پاکستان کی ان کاروائیوں کو بدنام کرنا ہے جو مکمل طور پر بین الاقوامی اصولوں، احتیاط اور صرف تصدیق شدہ دہشت گرد اہداف تک محدود ہوتی ہیں۔ پاکستان ہمیشہ امتیاز اور تناسب کے اصولوں کی پاسداری کرتا ہے اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا اس کی پیشہ ورانہ پالیسی کے برعکس ہے۔
گمراہ کُن مہم
ماہرین کے مطابق افغآن ترجمان حمد اللہ فطرت کی جانب سے “جنگی جرائم” جیسی اصطلاحات کا استعمال بیانیے کو عالمی سطح پر اچھالنے کی ایک ناکام کوشش ہے، جس کے پیچھے نہ تو کوئی قانونی بنیاد ہے اور نہ ہی ٹھوس شواہد۔ یہ منظم اطلاعاتی مہم دراصل طالبان کی اپنی داخلی ناکامیوں اور دہشت گرد نیٹ ورکس کی پشت پناہی کے الزامات سے بچنے کا ایک طریقہ کار ہے، جس میں مظلومیت کے لبادے میں اصل حقائق کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔