اسلام آباد میں پہلے ہائی لیول پاک-یورپی یونین بزنس فورم کا آغاز ہو گیا ہے، جس کا مقصد تجارت کو طویل مدتی سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور پائیدار صنعتی ترقی میں تبدیل کرنا ہے۔

April 28, 2026

کابل میں عوامی املاک کا عسکری استعمال جنیوا کنونشنز کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ شواہد کے مطابق ہسپتال کے نام پر ڈرونز اور خودکش حملہ آوروں کی تربیت نے اس مقام کی محفوظ حیثیت ختم کر کے اسے قانونی طور پر ایک جائز فوجی ہدف بنا دیا ہے۔

April 28, 2026

اسلام کے نام پر دہشت گردی پھیلانے والے گروہ درحقیقت ‘خوارج’ کے نقشِ قدم پر ہیں، جن کے خلاف 1800 سے زائد علمائے کرام کا متفقہ فتویٰ ‘پیغامِ پاکستان’ ایک واضح شرعی حجت ہے۔

April 28, 2026

دستورِ پاکستان اور شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں فتنہ خوارج کی پُرتشدد کاروائیاں جہاد کے مقدس تصور کے منافی اور صریحاً ‘فساد فی الارض’ ہیں۔ متقدمین و متاخرین فقہائے امت کے فتاویٰ اور ‘پیغامِ پاکستان’ کے تاریخی اعلامیے کی رو سے ریاست کے خلاف مسلح بغاوت شرعاً حرام اور ناجائز ہے، کیونکہ جہاد کا شرعی اختیار کسی فرد یا گروہ کے بجائے فقط مسلم ریاست کا منصب ہے۔

April 28, 2026

ضلع باجوڑ کے سرحدی مقام لغاری میں افغان فورسز نے سویلین آبادی اور تجارتی مراکز کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد دکانوں اور مقامی املاک کو نقصان پہنچا۔

April 28, 2026

چمن کے سرحدی گاؤں میں افغان فورسز کی جانب سے داغے گئے مارٹر گولے نے ایک گھر کو نشانہ بنایا، جس سے ایک ہی خاندان کے دو بھائی متاثر ہوئے۔

April 28, 2026

باجوڑ: لغاری سیکٹر میں افغان فورسز کی فائرنگ سے مارکیٹ تباہ، شہری املاک متاثر، پاک فوج کا فوری ردعمل

ضلع باجوڑ کے سرحدی مقام لغاری میں افغان فورسز نے سویلین آبادی اور تجارتی مراکز کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد دکانوں اور مقامی املاک کو نقصان پہنچا۔
ضلع باجوڑ کے سرحدی مقام لغاری میں افغان فورسز نے سویلین آبادی اور تجارتی مراکز کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد دکانوں اور مقامی املاک کو نقصان پہنچا۔

باجوڑ کے لغاری سیکٹر میں افغان فورسز کی بلااشتعال فائرنگ سے مقامی مارکیٹ اور شہری املاک کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس پر پاک فوج نے بھرپور جوابی کاروائی کرتے ہوئے دشمن کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔

April 28, 2026

ضلع باجوڑ کے لغاری سیکٹر میں گزشتہ رات افغان فورسز نے ایک بار پھر اشتعال انگیزی کرتے ہوئے سویلین آبادی اور مقامی بازار کو نشانہ بنایا۔ عینی شاہدین اور مقامی ذرائع کے مطابق افغان حدود سے چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

تجارتی مراکز اور املاک کو نقصان

ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان فورسز کی جانب سے داغے گئے گولے اور فائرنگ براہِ راست لغاری کے تجارتی مرکز اور بازار میں لگی، جس سے متعدد دکانوں، گوداموں اور دیگر نجی املاک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ مقامی تاجروں کے مطابق اس اچانک حملے سے لاکھوں روپے مالیت کا سامان تباہ ہو گیا ہے، تاہم خوش قسمتی سے جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

پاک فوج کی جوابی کاروائی

سرحد پر تعینات پاکستانی سکیورٹی فورسز نے افغان اشتعال انگیزی کا مؤثر اور دندان شکن جواب دیا ہے۔ ‘آپریشن غضب للحق’ کے تحت جاری کاروائیوں میں پاک فوج نے ان افغان چوکیوں کو نشانہ بنایا جہاں سے شہری آبادی پر فائرنگ کی جا رہی تھی۔ حکام کے مطابق جوابی کاروائی میں دشمن کو بھاری نقصان پہنچا ہے جس کے بعد سرحد پار سے فائرنگ کا سلسلہ رک گیا ہے۔

سکیورٹی ہائی الرٹ

اس واقعے کے خلاف مقامی آبادی اور تجارتی تنظیموں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی مذمت کی ہے۔ سیکیورٹی حکام نے پورے لغاری سیکٹر اور ملحقہ سرحدی علاقوں میں نگرانی کا عمل مزید سخت کر دیا ہے اور کسی بھی ممکنہ مہم جوئی کا جواب دینے کے لیے فورسز کو ہائی الرٹ رکھا گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

اسلام آباد میں پہلے ہائی لیول پاک-یورپی یونین بزنس فورم کا آغاز ہو گیا ہے، جس کا مقصد تجارت کو طویل مدتی سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور پائیدار صنعتی ترقی میں تبدیل کرنا ہے۔

April 28, 2026

کابل میں عوامی املاک کا عسکری استعمال جنیوا کنونشنز کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ شواہد کے مطابق ہسپتال کے نام پر ڈرونز اور خودکش حملہ آوروں کی تربیت نے اس مقام کی محفوظ حیثیت ختم کر کے اسے قانونی طور پر ایک جائز فوجی ہدف بنا دیا ہے۔

April 28, 2026

اسلام کے نام پر دہشت گردی پھیلانے والے گروہ درحقیقت ‘خوارج’ کے نقشِ قدم پر ہیں، جن کے خلاف 1800 سے زائد علمائے کرام کا متفقہ فتویٰ ‘پیغامِ پاکستان’ ایک واضح شرعی حجت ہے۔

April 28, 2026

دستورِ پاکستان اور شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں فتنہ خوارج کی پُرتشدد کاروائیاں جہاد کے مقدس تصور کے منافی اور صریحاً ‘فساد فی الارض’ ہیں۔ متقدمین و متاخرین فقہائے امت کے فتاویٰ اور ‘پیغامِ پاکستان’ کے تاریخی اعلامیے کی رو سے ریاست کے خلاف مسلح بغاوت شرعاً حرام اور ناجائز ہے، کیونکہ جہاد کا شرعی اختیار کسی فرد یا گروہ کے بجائے فقط مسلم ریاست کا منصب ہے۔

April 28, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *