معروف تجزیہ کاروں احمد العربی اور سلمان جاوید نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ 70 برسوں میں پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کو ہمیشہ بھارتی مالی معاونت اور افغان سرزمین کی سہولت کاری حاصل رہی ہے۔
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں طالبان نے شکی سے نسی کے علاقے کی جانب تازہ دم جنگجو روانہ کر دیے ہیں، جس کے بعد جمعہ خان فتح کے ساتھ اندرونی کشیدگی اور تصادم کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
بدخشاں کے ضلع زیبک میں اے ایف ایف نے طالبان پر پیشگی مارٹر حملے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ درواز پائین میں مقامی مسلح افراد کی کارروائی کے دوران ایک طالبان عہدیدار مارا گیا ہے۔
سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے سلامتی کونسل میں جامع اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نئے مستقل ارکان کے بجائے منتخب اور گردش پذیر نشستوں میں اضافے کی حمایت کرتا ہے۔
برطانوی جریدے ‘دی ٹیلی گراف’ کی رپورٹ نے طالبان کے 5 سالہ اقتدار کے دوران افغانستان میں بڑھتی ہوئی غربت، 34 لاکھ شہریوں کے انخلا، خواتین پر پابندیوں اور انسانی بحران کی سنگین تصویر پیش کر دی ہے۔
طالبان کے وزیرِ دفاع ملا محمد یعقوب کے الزامات پر پاکستان نے واضح کیا ہے کہ تعلقات میں بہتری کے لیے افغان سرزمین سے ٹی ٹی پی کی دہشت گردی پر ٹھوس اور قابلِ تصدیق کارروائی ضروری ہے۔