افغان طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کی کارروائیوں اور جغرافیائی پھیلاؤ میں واضح تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ شمالی، شمال مشرقی، وسطی، مشرقی اور جنوبی افغانستان میں متعدد پرانی اور نئی مزاحمتی تنظیمیں اب زیادہ متحرک ہو چکی ہیں۔
سال 2026 کے دوران طالبان کے خلاف مسلح مخالفت کا تنوع اور رفتار دونوں بڑھے ہیں۔ ابتدائی برسوں کے برعکس اب مزاحمتی سرگرمیاں صرف مخصوص وادیوں تک محدود نہیں رہیں، بلکہ ملک کے بڑے حصے میں پھیل چکی ہیں۔
مزاحمتی گروہ
نیشنل ریزسٹنس فرنٹ اور افغانستان فریڈم فرنٹ کے ساتھ اب نئی عسکری تنظیمیں بھی میدان میں آ چکی ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل سمیع سادات کی قیادت میں افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے جنوبی اور مغربی صوبوں میں کارروائیوں کے دعوے کیے ہیں۔ یہ گروپ بنیادی طور پر پشتون عناصر اور سابق اہلکاروں پر مشتمل ہے۔
یاسین ضیا کی قیادت میں افغانستان فریڈم فرنٹ اور احمد مسعود کا نیشنل ریزسٹنس فرنٹ بدخشاں، تخار، بغلان اور پنجشیر سمیت کئی علاقوں میں فعال ہیں۔ اس کے علاوہ سابق کمانڈو قیوم ملنگ کی قیادت میں سپاہیانِ میہن نے بدخشاں کے ضلعی مرکز پر عارضی کنٹرول کا دعویٰ بھی کیا تھا۔
امراللہ صالح کا افغانستان گرین ٹرینڈ اور دیگر مقامی گروہ، جیسے کہ افغان ریپبلکن فرنٹ اور اندراب ریزسٹنس فرنٹ، بھی مختلف صوبائی شاہراہوں اور چوکیوں پر حملوں کے دعوے کر رہے ہیں۔
دو ماہ میں 119 حملے
مرتب کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اگست اور ستمبر 2026 کے دوران افغانستان کے 26 صوبوں میں مجموعی طور پر 119 حملے رپورٹ ہوئے۔ ان دعوؤں کے مطابق طالبان کے 256 اہلکار ہلاک اور اتنے ہی زخمی ہوئے۔
حملوں کے ان دعوؤں میں سب سے بڑا حصہ افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کا رہا جس نے 59 کارروائیوں کا دعویٰ کیا۔ اس کے علاوہ افغانستان فریڈم فرنٹ نے 29 اور نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے 11 حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔
طالبان کی اعلیٰ انتظامی قیادت اور سرکاری دفاتر بھی نشانے پر آئے ہیں۔ غور کے دارالحکومت فیروز کوہ اور بدخشاں کے شہر فیض آباد میں گورنر ہاؤس کے کمپاؤنڈز پر حملوں کے دعوے اس کی واضح مثالیں ہیں۔
نسلی عدم توازن
افغان طالبان حکومت پر سیاسی اختیارات قندھاری قیادت کے ایک محدود حلقے میں مرکوز کرنے کے الزامات لگ رہے ہیں۔ اس طرز حکمرانی نے تاجک، ازبک اور ہزارہ برادریوں میں محرومی کے احساس کو گہرا کیا ہے۔
دستیاب تخمینوں کے مطابق طالبان کی رہبری شوریٰ اور اہم وزارتوں میں پشتونوں کی نمائندگی 85 فیصد سے زائد ہے۔ موجودہ کابینہ میں دیگر تمام نسلی اکائیوں کا حصہ برائے نام ہے، جبکہ خواتین اور ہزارہ برادری کو نمائندگی حاصل نہیں۔
سیاسی اختیارات سے غیر پشتون برادریوں کی دوری نے خاص طور پر شمالی اور شمال مشرقی صوبوں میں مسلح مزاحمت کے لیے سازگار فضا بنائی ہے۔
سابق اہلکاروں کی صف بندی
اقتدار سنبھالنے پر طالبان نے سابق سکیورٹی فورسز کے لیے عام معافی کا اعلان کیا تھا، تاہم بین الاقوامی رپورٹس اس کے برعکس صورتحال ظاہر کرتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مشن (یوناما) کے مطابق سابق حکومتی اور عسکری اہلکاروں کے خلاف ماورائے عدالت ہلاکتیں، گرفتاریاں اور تشدد کے واقعات مسلسل رپورٹ ہو رہے ہیں۔
ان کارروائیوں نے سابق فوجیوں، پولیس اور انٹیلی جنس اہلکاروں میں شدید عدم تحفظ پیدا کیا۔ اس صورتحال کے نتیجے میں تربیت یافتہ سابق اہلکار عسکری گروہوں میں شامل ہوئے، جس سے مزاحمتی قوتوں کی آپریشنل صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا۔
دوسری جانب داعش خراسان کی کارروائیاں بھی بدستور جاری ہیں۔ ان دونوں محاذوں کے باعث افغان طالبان حکومت کے لیے سکیورٹی چیلنجز پیچیدہ اور ہمہ جہت رخ اختیار کر چکے ہیں۔
دیکھیے: عالمی فوجداری عدالت نے ملا ہیبت اللہ سمیت چار طالبان رہنماؤں کے وارنٹ جاری کر دیے