پی ٹی آئی کارکن نے ایک ارب 30 کروڑ روپے کے احتجاجی فنڈز اور بنیادی سہولیات کے فقدان پر قیادت سے کڑے سوالات کرتے ہوئے فوری حساب کا مطالبہ کر دیا۔

October 6, 2026

افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت کا جغرافیائی دائرہ وسیع ہو گیا ہے، جس میں سابق سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔

October 6, 2026

یمن تنازع میں پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعاون کو اسرائیل سے جوڑنے کی مذموم کوشش؛ ڈیجیٹل میڈیا پر حقائق کے منافی جھوٹا بیانیہ بے نقاب ہو گیا۔

October 6, 2026

طلال چوہدری کا دعویٰ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات میں بڑا بریک تھرو ہوچکا تھا، تاہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی آخری وقت کی شرائط کے باعث مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے۔

October 6, 2026

پی ٹی آئی کے لانگ مارچ نے سیاسی دعوؤں، تنظیمی صلاحیت اور زمینی حقائق کے درمیان واضح فرق کو نمایاں کردیا۔

October 6, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی کو احتجاج اور دھرنے ختم کرنے کے بعد مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے دروازے بات چیت کیلئے کھلے ہیں۔

October 6, 2026

ایک ارب 30 کروڑ روپے کہاں گئے؟ پی ٹی آئی کارکنوں کا قیادت سے سخت سوال

پی ٹی آئی کارکن نے ایک ارب 30 کروڑ روپے کے احتجاجی فنڈز اور بنیادی سہولیات کے فقدان پر قیادت سے کڑے سوالات کرتے ہوئے فوری حساب کا مطالبہ کر دیا۔
پی ٹی آئی لانگ مارچ اور کرپشن

پی ٹی آئی کے احتجاج میں شریک کارکن نے ایک ارب 30 کروڑ روپے فنڈز کے استعمال اور ناقص انتظامات پر قیادت سے کڑے سوالات کر دیے۔ فوری حساب کا مطالبہ۔

October 6, 2026

پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران بنیادی انتظامات نہ ہونے پر کارکنوں نے اپنی ہی قیادت کے خلاف آواز اٹھا دی۔ کوہاٹ سے آئے ایک کارکن نے پارٹی فنڈز کے مبینہ استعمال اور قیادت کے رویے پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔

متاثرہ کارکن کے مطابق احتجاجی مہم کے لیے عوام اور ورکرز سے تقریباً ایک ارب 30 کروڑ روپے کا بھاری چندہ جمع کیا گیا تھا۔ کارکن نے دعویٰ کیا کہ غریب عوام نے اپنی جیب سے ایک ہزار سے لے کر بیس ہزار روپے تک دیے، لیکن اب یہ معلوم نہیں کہ یہ خطیر رقم کہاں خرچ کی گئی؟

کھانے پینے کے بنیادی انتظامات؟

کارکن نے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ بنوں، کوہاٹ، کرک اور ہنگو سمیت دور دراز علاقوں سے لوگ اپنے لیڈر کی رہائی کے لیے آئے تھے۔ اس کے باوجود شرکا کے لیے کھانے پینے اور ناشتے تک کا کوئی مناسب بندوبست نہیں کیا گیا اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت دربدر رہے۔

وزیراعلیٰ پر کڑی تنقید

کارکن نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کو سڑکوں پر پریشان حال ورکرز کے ساتھ ہونا چاہیے تھا، مگر وہ میدان چھوڑ کر میک اپ کے لیے چلے گئے۔ انہوں نے شفیع جان کو بھی ناقص حکمت عملی اور ناکافی انتظامات کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

قیادت سے فوری وضاحت کا مطالبہ

کارکن کا کہنا تھا کہ عمران خان سے محبت اپنی جگہ، لیکن جب تک قیادت ورکرز کے دکھ درد میں شریک نہیں ہوگی، احتجاج کامیاب نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے پارٹی قیادت سے پرزور مطالبہ کیا کہ چندے کی ایک ایک پائی کا فوری حساب دیا جائے اور ورکرز کو اصل صورتحال پر اعتماد میں لیا جائے۔

دیکھیے: پی ٹی آئی مارچ: پشاور کے تاجر سڑکوں پر، صوبائی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی

متعلقہ مضامین

افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت کا جغرافیائی دائرہ وسیع ہو گیا ہے، جس میں سابق سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔

October 6, 2026

یمن تنازع میں پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعاون کو اسرائیل سے جوڑنے کی مذموم کوشش؛ ڈیجیٹل میڈیا پر حقائق کے منافی جھوٹا بیانیہ بے نقاب ہو گیا۔

October 6, 2026

طلال چوہدری کا دعویٰ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات میں بڑا بریک تھرو ہوچکا تھا، تاہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی آخری وقت کی شرائط کے باعث مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے۔

October 6, 2026

پی ٹی آئی کے لانگ مارچ نے سیاسی دعوؤں، تنظیمی صلاحیت اور زمینی حقائق کے درمیان واضح فرق کو نمایاں کردیا۔

October 6, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *