پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران بنیادی انتظامات نہ ہونے پر کارکنوں نے اپنی ہی قیادت کے خلاف آواز اٹھا دی۔ کوہاٹ سے آئے ایک کارکن نے پارٹی فنڈز کے مبینہ استعمال اور قیادت کے رویے پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔
متاثرہ کارکن کے مطابق احتجاجی مہم کے لیے عوام اور ورکرز سے تقریباً ایک ارب 30 کروڑ روپے کا بھاری چندہ جمع کیا گیا تھا۔ کارکن نے دعویٰ کیا کہ غریب عوام نے اپنی جیب سے ایک ہزار سے لے کر بیس ہزار روپے تک دیے، لیکن اب یہ معلوم نہیں کہ یہ خطیر رقم کہاں خرچ کی گئی؟
کھانے پینے کے بنیادی انتظامات؟
کارکن نے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ بنوں، کوہاٹ، کرک اور ہنگو سمیت دور دراز علاقوں سے لوگ اپنے لیڈر کی رہائی کے لیے آئے تھے۔ اس کے باوجود شرکا کے لیے کھانے پینے اور ناشتے تک کا کوئی مناسب بندوبست نہیں کیا گیا اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت دربدر رہے۔
وزیراعلیٰ پر کڑی تنقید
کارکن نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کو سڑکوں پر پریشان حال ورکرز کے ساتھ ہونا چاہیے تھا، مگر وہ میدان چھوڑ کر میک اپ کے لیے چلے گئے۔ انہوں نے شفیع جان کو بھی ناقص حکمت عملی اور ناکافی انتظامات کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
قیادت سے فوری وضاحت کا مطالبہ
کارکن کا کہنا تھا کہ عمران خان سے محبت اپنی جگہ، لیکن جب تک قیادت ورکرز کے دکھ درد میں شریک نہیں ہوگی، احتجاج کامیاب نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے پارٹی قیادت سے پرزور مطالبہ کیا کہ چندے کی ایک ایک پائی کا فوری حساب دیا جائے اور ورکرز کو اصل صورتحال پر اعتماد میں لیا جائے۔
دیکھیے: پی ٹی آئی مارچ: پشاور کے تاجر سڑکوں پر، صوبائی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی