معاشی سطح پر دونوں ممالک کے درمیان گہرے روابط موجود ہیں، جہاں تقریباً 16 لاکھ پاکستانی یو اے ای میں مقیم ہیں، جو وہاں کی معیشت میں نمایاں کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط پل کا کام کر رہے ہیں۔
آئی ایم ایف پروگرام اور دوست ممالک کے ساتھ تعاون کے ذریعے بیرونی مالی پوزیشن کو بہتر بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جون 2025 تک اسٹیٹ بینک کے ذخائر بڑھ کر تقریباً 14.51 ارب ڈالر ہو گئے، جو جون 2024 میں تقریباً 9.39 ارب ڈالر تھے۔
حکام کے مطابق 2 اور 3 اپریل کی درمیانی شب غلام خان سیکٹر میں سرحدی چوکی پر حملے کی کوشش کو بھی ناکام بنا دیا گیا، جس میں 37 تک دہشتگرد ہلاک اور 80 سے زائد زخمی ہوئے۔
سیکیورٹی اداروں نے ایک کارروائی کے دوران ایک مبینہ دہشتگرد کو گرفتار کیا ہے جس کا تعلق تحریک طالبان افغانستان سے ہے اور وہ بلوچستان میں ’لالو‘ کے نام سے سرگرم تھا۔
پاکستان کی افغانستان کے ساتھ پالیسی تضاد کا شکار ہے۔ ان کے مطابق پاکستان مسلسل مذاکرات، بارڈر مینجمنٹ اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے عملی اقدامات پر زور دیتا رہا ہے۔
افغان شہریوں میں مثبت جذبات کی سطح سب سے کم جبکہ منفی جذبات کی سطح بلند ترین رہی۔ خاص طور پر افغان خواتین کی زندگی سے اطمینان کی اوسط شرح صرف 1.26 رہی، جو عالمی سطح پر سب سے کم ہے۔
افغانستان، ترکمانستان اور تاتارستان کے درمیان سہ فریقی ٹرانزٹ کوریڈور معاہدے پر آئندہ دو ماہ میں دستخط متوقع ہیں، جسے قازان فورم کے دوران حتمی شکل دی جائے گی۔
شہباز گل کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا گیا کہ ایران نے پاکستان میں مذاکرات سے انکار کیا کیونکہ یہ ایک مبینہ “جال” تھا، تاہم ماہرین کے مطابق یہ دعویٰ ایک معروف دانشور ولی نصر سے غلط طور پر منسوب کیا گیا۔