Author: عمر ابدالی

ذرائع کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد جنوری 2022 میں ملا ہیبت اللہ نے ایک جامع پالیسی متعارف کروائی تھی، جس کے تحت ملک بھر کے تعلیمی اداروں، بشمول کابل یونیورسٹی، کا نصاب تبدیل کیا گیا۔ اس نئے نصاب کو طالبان کی سخت گیر، رجعت پسند اور مخصوص پشتون روایات سے ہم آہنگ کیا گیا، تاکہ ریاستی ڈھانچے پر مکمل نظریاتی گرفت قائم کی جا سکے۔

January 19, 2026

پاکستان کے سرحدی صوبوں میں جون 2025میں پاکستان کو دھوکہ دینے کی خاطر بظاہر ٹی ٹی پی کو روکنے کے لئے قائم کی گئی ٹاسک فورس جس کا سربراہ سابق گورنر خوست مولوی قاسم خالد کو بنایا گیا ہے ، وہ بھی ان بھرتیوں میں تعاون کر رہا ہے ۔ سورس کے مطابق منصوبہ بندی کے تحت پاکستان میں دہشت گردی میں افغان شہریوں کو پیچھے رکھتے ہوئے نئے بھرتی ہونےو الے پاکستانی شہریوں اور افغان مہاجرین کو فرنٹ پر رکھا جائے گا ، تاکہ یہ دعویٰ کیا جا سکے کہ طالبان نے افغان شہریوں کو دہشت گردی سے روک لیا ہے ۔

January 19, 2026

گزشتہ چند سالوں میں این ایم ایف نے کئی حملے کیے، جن میں کاپیسا، ننگرہار، کوہستان اور شمالی علاقوں میں طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔2024 میں این ایم ایف نے پاکستان کی سرحد پر ننگرہار کے لالپور ضلع میں ایک بڑا حملہ کیا، جس میں متعدد طالبان اور پاکستانی ٹی ٹی پی ارکان ہلاک ہوئے۔

January 14, 2026

ذرائع کے مطابق باغِ بالا وہ تاریخی مقام ہے جہاں افغان شاہ کا محل واقع ہے، جسے اشرف غنی کے دورِ حکومت میں امریکی فنڈز سے دوبارہ تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ مقام تاریخی ورثہ ہونے کے باعث عوامی اور تجارتی تعمیرات کے لیے ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ تاہم الزام ہے کہ مولوی عبدالحکیم حقانی نے چیف جسٹس کی حیثیت سے خصوصی اجازت دے کر یہاں کاروباری سرگرمیوں کی اجازت دی۔

January 12, 2026

ملا ہیبت اللہ کی یہ کوشش ہے کہ وہ شریعت کے نام پر اپنی گرفت مضبوط کریں اور ہر مخالف آواز کو غیر شرعی، باغی اور غدار قرار دیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس سے اختلاف ختم ہو جائے گا یا یہ مزید بڑھے گا۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جبر اختلاف کو دباتا نہیں بلکہ اسے اندر ہی اندر مضبوط کرتا ہے۔

January 10, 2026

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کے درمیان اختلافات اور علیحدگی کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ ویڈیو ان اختلافات کی عملی تصدیق بھی کرتی ہے۔ ویڈیو میں سربکف مہمند نے ٹی ٹی پی کی مرکزی قیادت کے بجائے عمر خراسانی کا نام لیا، جو اندرونی اختلافات کی نشاندہی کرتا ہے۔

January 10, 2026

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تنازعہ گزشتہ دو ہفتوں سے جاری ہے، جب قندھار سے آئے طالبان کمانڈروں نے طاقت کے زور پر مقامی لوگوں سے سونے کی کانیں چھین کر اپنے حامیوں کے حوالے کیں۔ بعد ازاں انہی کانوں پر چینی ماہرین کی مدد سے کام شروع کرایا گیا، جس پر مقامی آبادی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ انہیں نہ صرف بے دخل کیا گیا بلکہ کسی قسم کا معاوضہ بھی نہیں دیا گیا۔دو روز قبل بھی اسی علاقے میں مقامی لوگوں اور قندھاری گروپ کے درمیان شدید تصادم ہوا تھا، جس میں چھ افراد مارے گئے۔

January 7, 2026

ان تبدیلیوں کے تحت صوبہ سرپل کے گورنر مولوی محمد ظریف مظفر کو 205 البدر کور کا کمانڈر مقرر کیا گیا، جبکہ پنجشیر اسپیشل بریگیڈ کے نائب کمانڈر ملا عتیق اللہ حبیب کو اسی کور کا معاون بنایا گیا ہے۔ اسی طرح 203 منصوری کور، 209 الفتح کور اور 215 العزم کور میں بھی اہم عسکری تبادلے کیے گئے ہیں، جبکہ وزارتِ دفاع میں متعدد محکموں کی قیادت تبدیل کر دی گئی ہے۔

January 5, 2026

تخار صوبے میں یہ تنازعہ جمعہ کے روز اس وقت عروج پر پہنچا جب ضلع چاہ آب کے سمتی علاقے میں مقامی رہائشیوں اور طالبان کے پشتون دھڑے کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ طالبان میں موجود ہمارے ذرائع کے مطابق، ان جھڑپوں میں کم از کم 4 افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوئے۔ لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب نماز جمعہ کے بعد مقامی افراد، جن میں طالبان کے نان پشتون مقامی اہلکار بھی شامل تھے، سونے کی ان کانوں پر قبضے کے خلاف احتجاج کرنے لگے۔ اس موقع پر طالبان کے پشتون گروپ، جو قبضے کے لیے آیا ہوا تھا، نے احتجاج کرنے والوں پر فائرنگ کردی۔

January 4, 2026

نور ولی نے ٹی ٹی پی کی نئی قیادت اور تشکیلات کی منظوری لی ۔کابل کے وزیر اکبر خان میں ایک انتہائی محفوظ  سرکاری گیسٹ ہاؤس میںٹی ٹی پی کے رہنماؤں کا اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب افغان طالبان افغان سرزمین پر ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی موجودگی سے انکار کر رہے ہیں۔

January 4, 2026