پاکستان میں افغان بیس بال ٹیم کا کیمپ قائم ہونے کی بنیادی وجہ یہاں دستیاب سہولیات کا ہونا ہے۔ خیبر پختونخوا کے کھلے میدانوں میں پاکستان کی قومی بیس بال ٹیم کے تقریباً 60 فیصد کھلاڑی بھی اسی اکیڈمی میں پریکٹس کرتے ہیں۔

May 6, 2026

بھارت جیسے بالائی علاقوں کے ملک کی جانب سے پانی کی فراہمی کو محدود کرنا اور اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ایک غیر قانونی اور خطرناک روایت کو جنم دے سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور نظام اس طرح کے یکطرفہ اقدامات کا متحمل نہیں ہو سکتا

May 6, 2026

چینی ٹی وی پر طیارے کے برآمدی ورژن جے-35 اے ای کی فوٹیج دکھائی گئی ہے جس میں جدید ترین الیکٹرو آپٹیکل ٹارگٹ سسٹم نصب ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، پاکستان اس دفاعی پیکیج کے تحت تقریباً 40 طیارے حاصل کر سکتا ہے۔

May 6, 2026

حکام نے بلوچستان کی برآمدی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے ماہی گیری، لائیو سٹاک، حلال گوشت، پھل، معدنیات اور فارماسیوٹیکل کے شعبوں کو نمایاں کیا اور گوادر پورٹ کو علاقائی تجارت کے لیے کلیدی گیٹ وے قرار دیا۔

May 6, 2026

انہوں نے اہم ترقیاتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کارڈیالوجی سینٹر کا بجٹ 60 لاکھ روپے سے بڑھا کر 6 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ کیتھ لیب کو بھی فعال کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میرپور میں ایمرجنسی خدمات کے لیے 2 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

May 6, 2026

شاہد آفریدی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علم و تقویٰ کا یہ ستارہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، جبکہ انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ اس حملے کے ذمہ داران کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

May 6, 2026

طالبان کی بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ: 1,136 سرکاری ملازمین برطرف، 1,555 نئے وفادار تعینات

ذرائع کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد جنوری 2022 میں ملا ہیبت اللہ نے ایک جامع پالیسی متعارف کروائی تھی، جس کے تحت ملک بھر کے تعلیمی اداروں، بشمول کابل یونیورسٹی، کا نصاب تبدیل کیا گیا۔ اس نئے نصاب کو طالبان کی سخت گیر، رجعت پسند اور مخصوص پشتون روایات سے ہم آہنگ کیا گیا، تاکہ ریاستی ڈھانچے پر مکمل نظریاتی گرفت قائم کی جا سکے۔
طالبان کی بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ: 1,136 سرکاری ملازمین برطرف، 1,555 نئے وفادار تعینات

ذرائع کے مطابق مولوی ندا محمد ندیم کی سفارش پر 22 دسمبر 2025 کو طالبان قیادت نے مجموعی طور پر 90 ہزار سرکاری اسامیوں کے خاتمے کا اعلان کیا، جبکہ اس کے ساتھ ہی طالبان کے مخصوص نظریاتی مدارس کے لیے 100 ہزار نئی اسامیاں قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

January 19, 2026

افغانستان میں طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے ریاستی اداروں پر مکمل نظریاتی اور انتظامی کنٹرول کے لیے بڑے پیمانے پر تطہیری عمل کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت سابقہ حکومت کے دور میں بھرتی کیے گئے 1,136 سرکاری ملازمین کو برطرف جبکہ طالبان سے وابستہ 1,555 وفادار افراد کو مختلف سرکاری اداروں میں تعینات کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد جنوری 2022 میں ملا ہیبت اللہ نے ایک جامع پالیسی متعارف کروائی تھی، جس کے تحت ملک بھر کے تعلیمی اداروں، بشمول کابل یونیورسٹی، کا نصاب تبدیل کیا گیا۔ اس نئے نصاب کو طالبان کی سخت گیر، رجعت پسند اور مخصوص پشتون روایات سے ہم آہنگ کیا گیا، تاکہ ریاستی ڈھانچے پر مکمل نظریاتی گرفت قائم کی جا سکے۔ اس عمل کے دوران سائنسی، سماجی اور جدید علوم کو یا تو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا یا انتہائی محدود کر دیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دری، پشتو اور سماجی علوم کی درسی کتب سے مجموعی طور پر 51 مضامین حذف کیے گئے ہیں۔ اسلامیات کے شعبے میں بھی صرف حنفی فقہ کے دیوبندی مکتب فکر، اور وہ بھی مخصوص تعبیرات کے تحت تعلیم کی اجازت دی گئی ہے، جبکہ دیگر فقہی مکاتب فکر کے پیروکاروں کے لیے تعلیم کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں۔ حتیٰ کہ حنفی فقہ کے اندر بھی صرف وہی آرا قابل قبول سمجھی جا رہی ہیں جو ملا ہیبت اللہ اور ان کے قریبی حلقے سے مطابقت رکھتی ہوں۔

طالبان حکومت کا مقصد ایک ایسی نسل تیار کرنا بتایا جا رہا ہے جو مکمل طور پر ان کے نظریاتی اہداف سے ہم آہنگ ہو۔ اسی مقصد کے تحت طالبان سے وابستہ پڑھے لکھے نوجوانوں کو رسمی تعلیمی اسناد سے استثنیٰ دیتے ہوئے براہِ راست جامعات میں داخلہ دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق یہ داخلے صرف پشتون اور قندھاری طالبان عناصر تک محدود رکھے گئے۔

تین سال بعد، 17 جنوری 2026 کو ایک حکم نامہ جاری کیا گیا جس کے تحت ان 1,555 منتخب طالبان افراد کو، جو اس مخصوص نصاب کے تحت تعلیم مکمل کر چکے تھے، مختلف سرکاری وزارتوں اور محکموں میں تعینات کیا گیا۔ اسی روز 1,136 سرکاری ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ان برطرفیوں کی وجہ کسی قسم کی بدعنوانی یا جرم نہیں تھی بلکہ صرف سابقہ حکومت کے دور میں تقرری ہونا تھا، تاکہ طالبان کے اپنے افراد کے لیے جگہ بنائی جا سکے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ باقی خالی اسامیاں گزشتہ ایک سال کے دوران ریٹائرمنٹ، اموات یا پہلے سے کی گئی برطرفیوں کے نتیجے میں پیدا ہوئی تھیں، جنہیں بھی طالبان سے وابستہ افراد سے پُر کیا جائے گا۔ اس پورے عمل کی نگرانی اور نظریاتی تربیت کی ذمہ داری وزیرِ اعلیٰ تعلیم مولوی ندا محمد ندیم کو سونپی گئی ہے، جو ملا ہیبت اللہ کے داماد ہیں اور سخت گیر نظریات کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مولوی ندا محمد ندیم کی سفارش پر 22 دسمبر 2025 کو طالبان قیادت نے مجموعی طور پر 90 ہزار سرکاری اسامیوں کے خاتمے کا اعلان کیا، جبکہ اس کے ساتھ ہی طالبان کے مخصوص نظریاتی مدارس کے لیے 100 ہزار نئی اسامیاں قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

مبصرین کے مطابق یہ اقدامات افغان ریاستی ڈھانچے کو مکمل طور پر طالبان کی نظریاتی گرفت میں دینے کی ایک منظم کوشش ہیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا فقدان بڑھے گا بلکہ افغانستان مزید تنہائی، انتہا پسندی اور عدم استحکام کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

دیکھیں: دوحہ بحری دفاعی نمائش کی افتتاحی تقریب میں افغان چیف آف اسٹاف کی شرکت

متعلقہ مضامین

پاکستان میں افغان بیس بال ٹیم کا کیمپ قائم ہونے کی بنیادی وجہ یہاں دستیاب سہولیات کا ہونا ہے۔ خیبر پختونخوا کے کھلے میدانوں میں پاکستان کی قومی بیس بال ٹیم کے تقریباً 60 فیصد کھلاڑی بھی اسی اکیڈمی میں پریکٹس کرتے ہیں۔

May 6, 2026

بھارت جیسے بالائی علاقوں کے ملک کی جانب سے پانی کی فراہمی کو محدود کرنا اور اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ایک غیر قانونی اور خطرناک روایت کو جنم دے سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور نظام اس طرح کے یکطرفہ اقدامات کا متحمل نہیں ہو سکتا

May 6, 2026

چینی ٹی وی پر طیارے کے برآمدی ورژن جے-35 اے ای کی فوٹیج دکھائی گئی ہے جس میں جدید ترین الیکٹرو آپٹیکل ٹارگٹ سسٹم نصب ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، پاکستان اس دفاعی پیکیج کے تحت تقریباً 40 طیارے حاصل کر سکتا ہے۔

May 6, 2026

حکام نے بلوچستان کی برآمدی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے ماہی گیری، لائیو سٹاک، حلال گوشت، پھل، معدنیات اور فارماسیوٹیکل کے شعبوں کو نمایاں کیا اور گوادر پورٹ کو علاقائی تجارت کے لیے کلیدی گیٹ وے قرار دیا۔

May 6, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *