ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے پراجیکٹ فریڈم کے تحت امریکی جہازوں یا تنصیبات کو نشانہ بنایا تو اسے دنیا کے نقشے سے مٹا دیا جائے گا۔

May 4, 2026

ایرانی عسکری ذرائع نے متحدہ عرب امارات کو تنبیہ کی ہے کہ وہ اسرائیل کے آلہ کار نہ بنیں۔ ایرانی حکام نے دھمکی دی ہے کہ کسی بھی قسم کی عسکری غلطی کا انتہائی شدید اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

May 4, 2026

پاکستان قانونی اصولوں پر کاربند ہے، جبکہ بھارت کی یکطرفہ خاموشی اور عدم تعمیل ایک خطرناک نظیر قائم کر رہی ہے جو علاقائی آبی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہے۔

May 4, 2026

طالبان کی موجودہ قیادت کی ساخت پر نظر ڈالی جائے تو یہ 85 سے 95 فیصد پشتونوں پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ 85 فیصد اہم وزارتیں بھی اسی مخصوص گروپ کے ہاتھ میں ہیں۔

May 4, 2026

یہ افراد طالبان کی سرپرستی میں نہ صرف اہم عہدوں پر براجمان ہیں بلکہ ریاستی پالیسی سازی اور حکومتی امور میں بھی ان کا کلیدی کردار ہے، جو کہ خطے کی سکیورٹی کے لیے ایک انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔

May 4, 2026

کمپنی نے 2021 کی قسط تو جمع کرائی، تاہم 2022 کی قسط کی ادائیگی میں ڈیفالٹ کیا۔ سی ڈی اے نے متعدد یاد دہانیوں کے بعد 7 فروری 2023 کو نوٹس اور پھر 8 مارچ کو لیز منسوخی کا حکم جاری کیا تھا۔

May 4, 2026

قندھار رجیم کے دعوے ایک بار پھر بے نقاب، افغانستان میں فتنہ خوارج کی موجودگی کا واضح ثبوت سامنے آ گیا

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کے درمیان اختلافات اور علیحدگی کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ ویڈیو ان اختلافات کی عملی تصدیق بھی کرتی ہے۔ ویڈیو میں سربکف مہمند نے ٹی ٹی پی کی مرکزی قیادت کے بجائے عمر خراسانی کا نام لیا، جو اندرونی اختلافات کی نشاندہی کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس پیش رفت کے بعد بین الاقوامی برادری پر لازم ہے کہ وہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کے حوالے سے زمینی حقائق کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

January 10, 2026

قندھار رجیم اور کابل حکومت کی جانب سے افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی عدم موجودگی کے دعوے ایک بار پھر خود فتنہ خوارج کے بیانات سے غلط ثابت ہو گئے ہیں۔ افغانستان کی سرزمین پر فتنہ خوارج کے دہشت گردوں کی موجودگی کا ایک بڑا اور ناقابلِ تردید ثبوت سامنے آ گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق جنوری کے پہلے ہفتے افغانستان میں ہونے والے ایک اہم اجلاس کے بعد فتنہ خوارج کے اہم گروپ جماعت الاحرار کے سرکردہ رہنما مکمل شاہ عرف سربکف مہمند نے ایک پیغام جاری کیا، جس میں افغانستان سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کی بالواسطہ تصدیق کی گئی ہے۔ جاری کردہ ویڈیو پیغام میں سربکف مہمند نے افغانستان سے پاکستان جا کر دہشت گردی کرنے والے عناصر کو پاکستان آنے کے بجائے افغانستان میں ہی رہنے کا پیغام دیا۔

ویڈیو میں وہ دعویٰ کرتا ہے کہ افغانستان میں ایک “اسلامی نظام” قائم ہے اور اسے مضبوط کرنا ان کی ذمہ داری ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ فتنہ خوارج کے دہشت گرد افغانستان میں نہ صرف موجود ہیں بلکہ منظم انداز میں سرگرم بھی ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کے درمیان اختلافات اور علیحدگی کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ ویڈیو ان اختلافات کی عملی تصدیق بھی کرتی ہے۔ ویڈیو میں سربکف مہمند نے ٹی ٹی پی کی مرکزی قیادت کے بجائے عمر خراسانی کا نام لیا، جو اندرونی اختلافات کی نشاندہی کرتا ہے۔

قابلِ ذکر ہے کہ سربکف مہمند اس سے قبل بھی ٹی ٹی پی قیادت پر سنگین الزامات عائد کرتا رہا ہے، جن میں خود کو زہر دے کر قتل کرنے کی کوشش کا الزام بھی شامل ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ تازہ ویڈیو نہ صرف فتنہ خوارج کے باہمی اختلافات کو آشکار کرتی ہے بلکہ کابل حکومت کے اس مؤقف کو بھی کمزور کرتی ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان مخالف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہو رہی۔

ماہرین کے مطابق اس پیش رفت کے بعد بین الاقوامی برادری پر لازم ہے کہ وہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کے حوالے سے زمینی حقائق کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

دیکھیں: طالبان کی جانب سے عوامی مظاہروں پر تشدد کے مبینہ واقعات؛ اے ایف ایف کی شدید مذمت

متعلقہ مضامین

ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے پراجیکٹ فریڈم کے تحت امریکی جہازوں یا تنصیبات کو نشانہ بنایا تو اسے دنیا کے نقشے سے مٹا دیا جائے گا۔

May 4, 2026

ایرانی عسکری ذرائع نے متحدہ عرب امارات کو تنبیہ کی ہے کہ وہ اسرائیل کے آلہ کار نہ بنیں۔ ایرانی حکام نے دھمکی دی ہے کہ کسی بھی قسم کی عسکری غلطی کا انتہائی شدید اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

May 4, 2026

پاکستان قانونی اصولوں پر کاربند ہے، جبکہ بھارت کی یکطرفہ خاموشی اور عدم تعمیل ایک خطرناک نظیر قائم کر رہی ہے جو علاقائی آبی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہے۔

May 4, 2026

طالبان کی موجودہ قیادت کی ساخت پر نظر ڈالی جائے تو یہ 85 سے 95 فیصد پشتونوں پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ 85 فیصد اہم وزارتیں بھی اسی مخصوص گروپ کے ہاتھ میں ہیں۔

May 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *