جنوبی زون کا سربراہ گورنر قندھار ملا محمد علی حنفی المعروف ملا شیریں ہیں، جس میں قندھار، ہلمند، ارزگان، زابل اور نیمروز شامل کیے گئے ہیں۔ شمال مشرقی زون کی ذمہ داری گورنر قندوز ملا محمد خان دعوت کے سپرد کی گئی ہے، جس میں قندوز، تخار، بغلان اور بدخشان شامل ہیں اور یہ علاقہ تاجکستان اور چین کی سرحدوں کے قریب واقع ہے۔
طالبان کی اندرونی سیاست میں مفادات، لوٹ مار اور طاقت کی کشمکش بنیادی کردار ادا کرتی ہے، جہاں قیادت کی اصل طاقت ذاتی مسلح گروہوں اور مالی وسائل سے جڑی رہی ہے۔ ملا ہیبت اللہ کے تقرر کے بعد یہ اندرونی توازن مزید واضح ہوا، جو مختلف دھڑوں کے درمیان اثر و رسوخ کی مسلسل جدوجہد کو نمایاں کرتا ہے
ذرائع کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد جنوری 2022 میں ملا ہیبت اللہ نے ایک جامع پالیسی متعارف کروائی تھی، جس کے تحت ملک بھر کے تعلیمی اداروں، بشمول کابل یونیورسٹی، کا نصاب تبدیل کیا گیا۔ اس نئے نصاب کو طالبان کی سخت گیر، رجعت پسند اور مخصوص پشتون روایات سے ہم آہنگ کیا گیا، تاکہ ریاستی ڈھانچے پر مکمل نظریاتی گرفت قائم کی جا سکے۔
پاکستان کے سرحدی صوبوں میں جون 2025میں پاکستان کو دھوکہ دینے کی خاطر بظاہر ٹی ٹی پی کو روکنے کے لئے قائم کی گئی ٹاسک فورس جس کا سربراہ سابق گورنر خوست مولوی قاسم خالد کو بنایا گیا ہے ، وہ بھی ان بھرتیوں میں تعاون کر رہا ہے ۔ سورس کے مطابق منصوبہ بندی کے تحت پاکستان میں دہشت گردی میں افغان شہریوں کو پیچھے رکھتے ہوئے نئے بھرتی ہونےو الے پاکستانی شہریوں اور افغان مہاجرین کو فرنٹ پر رکھا جائے گا ، تاکہ یہ دعویٰ کیا جا سکے کہ طالبان نے افغان شہریوں کو دہشت گردی سے روک لیا ہے ۔
گزشتہ چند سالوں میں این ایم ایف نے کئی حملے کیے، جن میں کاپیسا، ننگرہار، کوہستان اور شمالی علاقوں میں طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔2024 میں این ایم ایف نے پاکستان کی سرحد پر ننگرہار کے لالپور ضلع میں ایک بڑا حملہ کیا، جس میں متعدد طالبان اور پاکستانی ٹی ٹی پی ارکان ہلاک ہوئے۔
ذرائع کے مطابق باغِ بالا وہ تاریخی مقام ہے جہاں افغان شاہ کا محل واقع ہے، جسے اشرف غنی کے دورِ حکومت میں امریکی فنڈز سے دوبارہ تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ مقام تاریخی ورثہ ہونے کے باعث عوامی اور تجارتی تعمیرات کے لیے ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ تاہم الزام ہے کہ مولوی عبدالحکیم حقانی نے چیف جسٹس کی حیثیت سے خصوصی اجازت دے کر یہاں کاروباری سرگرمیوں کی اجازت دی۔
ملا ہیبت اللہ کی یہ کوشش ہے کہ وہ شریعت کے نام پر اپنی گرفت مضبوط کریں اور ہر مخالف آواز کو غیر شرعی، باغی اور غدار قرار دیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس سے اختلاف ختم ہو جائے گا یا یہ مزید بڑھے گا۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جبر اختلاف کو دباتا نہیں بلکہ اسے اندر ہی اندر مضبوط کرتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کے درمیان اختلافات اور علیحدگی کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ ویڈیو ان اختلافات کی عملی تصدیق بھی کرتی ہے۔ ویڈیو میں سربکف مہمند نے ٹی ٹی پی کی مرکزی قیادت کے بجائے عمر خراسانی کا نام لیا، جو اندرونی اختلافات کی نشاندہی کرتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تنازعہ گزشتہ دو ہفتوں سے جاری ہے، جب قندھار سے آئے طالبان کمانڈروں نے طاقت کے زور پر مقامی لوگوں سے سونے کی کانیں چھین کر اپنے حامیوں کے حوالے کیں۔ بعد ازاں انہی کانوں پر چینی ماہرین کی مدد سے کام شروع کرایا گیا، جس پر مقامی آبادی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ انہیں نہ صرف بے دخل کیا گیا بلکہ کسی قسم کا معاوضہ بھی نہیں دیا گیا۔دو روز قبل بھی اسی علاقے میں مقامی لوگوں اور قندھاری گروپ کے درمیان شدید تصادم ہوا تھا، جس میں چھ افراد مارے گئے۔
ان تبدیلیوں کے تحت صوبہ سرپل کے گورنر مولوی محمد ظریف مظفر کو 205 البدر کور کا کمانڈر مقرر کیا گیا، جبکہ پنجشیر اسپیشل بریگیڈ کے نائب کمانڈر ملا عتیق اللہ حبیب کو اسی کور کا معاون بنایا گیا ہے۔ اسی طرح 203 منصوری کور، 209 الفتح کور اور 215 العزم کور میں بھی اہم عسکری تبادلے کیے گئے ہیں، جبکہ وزارتِ دفاع میں متعدد محکموں کی قیادت تبدیل کر دی گئی ہے۔