طالبان کا سخت گیر کریک ڈاؤن جاری، ہرات سے مزید 4 خواتین حراست میں

افغان صوبوں میں بڑھتی بے چینی کے دوران ہرات میں طالبان نے لباس کے ضوابط کی خلاف ورزی پر مسلسل تیسرے روز 4 خواتین کو گرفتار کر لیا۔
طالبان کا سخت گیر کریک ڈاؤن جاری، ہرات سے مزید 4 خواتین حراست میں

افغانستان کے صوبوں میں بڑھتی بے چینی کے دوران ہرات میں طالبان نے مقررہ لباس کی مبینہ خلاف ورزی پر مسلسل تیسرے روز 4 خواتین کو حراست میں لے لیا۔

August 1, 2026

افغانستان کے مختلف صوبوں میں حالیہ چند ہفتوں کے دوران ابھرنے والی شدید بے چینی اور مقامی بغاوتی لہر کی ایک بڑی وجہ طالبان حکومت کے سخت اقدامات اور خواتین پر عائد پابندیاں ہیں۔ اسی صورتِ حال کے دوران صوبہ ہرات میں طالبان نے مقررہ لباس کے ضوابط کی مبینہ خلاف ورزی پر مسلسل تیسرے روز بھی 4 خواتین کو حراست میں لے لیا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق ہرات کی مصروف تجارتی شاہراہ ‘4 میٹر روڈ پر طالبان اہلکاروں نے خواتین کے لباس کی جانچ کی اور چار خواتین کو گرفتار کر لیا۔ اس موقع پر چند شہریوں نے مداخلت کی کوشش بھی کی لیکن اہلکار خواتین کو ساتھ لے جانے میں کامیاب رہے۔

ہرات میں گزشتہ تین، چار روز سے گرفتاریاں مسلسل جاری ہیں۔ بدھ کو 64 میٹر روڈ اور ‘پل رنگینہ’ سے کم از کم 5 خواتین کو حراست میں لیا گیا تھا جبکہ جمعرات کو بھی شہر کے مختلف علاقوں سے متعدد خواتین کو حراست میں لیا گیا۔ اس کریک ڈاؤن کے باعث خواتین میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کے ان سخت گیر اقدامات کے خلاف عوامی غصہ بڑھ رہا ہے، جو صوبائی سطح پر ابھرنے والی مزاحمت کو مزید ہوا دے رہا ہے۔ اس سے قبل ہرات میں ان گرفتاریوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی ہو چکے ہیں جنہیں طاقت کے ذریعے منتشر کر دیا گیا تھا۔

متعلقہ مضامین

پاکستان نے فضا سے فضا میں مار کرنے والے اپنے پہلے مقامی ساختہ میزائل فاز کا کامیاب تجربہ کرلیا۔

November 4, 2026

امریکی مڈٹرم انتخابات میں دو مسلم امیدوار کامیاب ہوگئے۔ غزہ میں زخمی فلسطینیوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر آدم حموی نیو جرسی سے کانگریس پہنچ گئے۔

November 4, 2026

افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے ضلع خوگیانی میں نیشنل فریڈم فرنٹ کے حملے کے بعد طالبان کے عسکری کندک میں شدید خوف پھیل گیا، واقعے میں 3 طالبان ہلاک اور 1 زخمی ہو گیا۔

November 4, 2026

امریکی مڈٹرم انتخابات کے نتائج کے بعد پی ٹی آئی ایک بار پھر غیر ملکی سیاست سے امیدیں وابستہ کر رہی ہے، جبکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور عدالتی نظام پر ان تبدیلیوں کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *