افغانستان کے مختلف صوبوں میں حالیہ چند ہفتوں کے دوران ابھرنے والی شدید بے چینی اور مقامی بغاوتی لہر کی ایک بڑی وجہ طالبان حکومت کے سخت اقدامات اور خواتین پر عائد پابندیاں ہیں۔ اسی صورتِ حال کے دوران صوبہ ہرات میں طالبان نے مقررہ لباس کے ضوابط کی مبینہ خلاف ورزی پر مسلسل تیسرے روز بھی 4 خواتین کو حراست میں لے لیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق ہرات کی مصروف تجارتی شاہراہ ‘4 میٹر روڈ پر طالبان اہلکاروں نے خواتین کے لباس کی جانچ کی اور چار خواتین کو گرفتار کر لیا۔ اس موقع پر چند شہریوں نے مداخلت کی کوشش بھی کی لیکن اہلکار خواتین کو ساتھ لے جانے میں کامیاب رہے۔
ہرات میں گزشتہ تین، چار روز سے گرفتاریاں مسلسل جاری ہیں۔ بدھ کو 64 میٹر روڈ اور ‘پل رنگینہ’ سے کم از کم 5 خواتین کو حراست میں لیا گیا تھا جبکہ جمعرات کو بھی شہر کے مختلف علاقوں سے متعدد خواتین کو حراست میں لیا گیا۔ اس کریک ڈاؤن کے باعث خواتین میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کے ان سخت گیر اقدامات کے خلاف عوامی غصہ بڑھ رہا ہے، جو صوبائی سطح پر ابھرنے والی مزاحمت کو مزید ہوا دے رہا ہے۔ اس سے قبل ہرات میں ان گرفتاریوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی ہو چکے ہیں جنہیں طاقت کے ذریعے منتشر کر دیا گیا تھا۔