طالبان کے وزیرِ انصاف اور چیف جسٹس مولوی عبدالحکیم حقانی ایک متنازع فیصلے کے باعث شدید تنقید کی زد میں آ گئے ہیں، جہاں کابل کے تاریخی مقام باغِ بالا کی پہاڑی کے تقریباً 10 فیصد حصے کو سابق حکومت کے قریبی صنعتکار اور تاجر حبیب اللہ آذئی (څازي) کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
افغان انٹرنیشنل نیوز ویب سائٹ کے مطابق یہ تاریخی مقام ایک معاہدے کے تحت ایسے شخص کے سپرد کیا گیا جو ماضی میں طالبان مخالف سابق حکومت کا وفادار سمجھا جاتا تھا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ معاہدے کے تحت مولوی عبدالحکیم حقانی کے بھائی کو کسی سرمایہ کاری کے بغیر اس منصوبے میں 10 فیصد شراکت دی گئی۔
حبیب اللہ آذئی کے بزنس پارٹنر اور سابق وزیرِ اطلاعات و ثقافت کریم خرم نے اس ڈیل کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ باغِ بالا کے اس حصے پر شادی ہال اور ایک پیٹرول پمپ تعمیر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق باغِ بالا وہ تاریخی مقام ہے جہاں افغان شاہ کا محل واقع ہے، جسے اشرف غنی کے دورِ حکومت میں امریکی فنڈز سے دوبارہ تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ مقام تاریخی ورثہ ہونے کے باعث عوامی اور تجارتی تعمیرات کے لیے ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ تاہم الزام ہے کہ مولوی عبدالحکیم حقانی نے چیف جسٹس کی حیثیت سے خصوصی اجازت دے کر یہاں کاروباری سرگرمیوں کی اجازت دی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس اجازت کے بدلے مولوی عبدالحکیم کے بھائی کے نام پر 10 فیصد شراکت دراصل رشوت کے مترادف ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ سابق حکومت کے دور میں اسی محل کی تعمیرِ نو بھی حبیب اللہ آذئی کی کمپنی نے کی تھی، اور اس وقت طالبان کی جانب سے اسی کمپنی پر کرپشن کے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے۔
مبصرین کے مطابق یہ معاملہ طالبان حکومت کے احتساب، شفافیت اور تاریخی ورثے کے تحفظ سے متعلق دعوؤں پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے، جبکہ عوامی سطح پر اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
دیکھیں: افغان مہاجرین کو روزگار کے شدید مسائل کا سامنا: اقوامِ متحدہ