لاہور: بیساکھی میلے میں شرکت کیلئے 2 ہزار 700 سے زائد بھارتی سکھ یاتری واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پہنچ گئے، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔
حکام کے مطابق واہگہ بارڈر پر یاتریوں کیلئے لنگر، ٹرانسپورٹ اور فوری طبی امداد سمیت بہترین انتظامات کیے گئے تھے، جبکہ سکیورٹی کے بھی خصوصی اقدامات کیے گئے۔
سکھ یاتریوں نے پاکستان آمد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے عوام کی مہمان نوازی نے دل جیت لیا۔
پردھان پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی اور وزیر اقلیتی امور پنجاب سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور سکھ برادری کیلئے اس کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔
شیڈول کے مطابق یاتری پہلے ننکانہ صاحب میں قیام کریں گے، جس کے بعد وہ گوردوارہ پنجہ صاحب حسن ابدال جائیں گے جہاں 14 اپریل کو بیساکھی میلے کی مرکزی تقریب منعقد ہوگی۔
بعد ازاں یاتری گوردوارہ دربار صاحب کرتار پور اور گوردوارہ ڈیرہ صاحب لاہور کی یاترا بھی کریں گے، جبکہ ان کی واپسی 19 اپریل کو متوقع ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مذہبی سیاحت کے ایسے مواقع نہ صرف بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں بلکہ پاکستان کے مثبت تشخص کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔