بنوں کے علاقے ممند خیل میں اسسٹنٹ کمشنر شمالی وزیرستان شاہ ولی خان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کر دیا۔ جس کے نتیجے میں شاہ ولی خان شدید زخمی ہوئے اور ہسپتال پہنچنے پر ان کی شہادت ہو گئی۔ تفصیلات کے مطابق اس حملے میں تین افراد جان بحق ہوئے جن میںاسسٹنٹ کمشنر، دو پولیس اہلکار اور ایک معصوم راہ گزر شامل ہے۔ حملہ آوروں نے حملے کے بعد موقع سے فرار ہونے سے پہلے سرکاری گاڑی کو بھی آگ لگائی۔
سکیورٹی فورسز کی کارروائی
واقعہ کے فوری بعد پولیس سمیت دیگر سکیورٹی فورسز جائے وقوعہ پر پہنچی اور معائنہ کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ آپریشن کی نگرانی ضلعی پولیس افسران ڈی پی او یاسر افریدی، ایس پی سٹی توحید خان اور ایس پی انویسٹی گیشن ساجد ممتاز کر رہے ہیں۔ واقعے کے بعد علاقہ بھر میں کثیر تعداد میں سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں اور مسلح افراد کی تلاش کے لیے آپریشن بھی شروع کردیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا
وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے اس بزدلانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملک دشمن عناصر ایسے حملوں سے پاکستانیوں کے حوصلے پست نہیں کرسکتے۔ وزیراعلیٰ نے واقعے میں ملوث تمام دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا اظہار کیا۔
انہوں نے آئی جی پولیس سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے زخمیوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات کی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہر حالت میں جاری رہے گی اور شہداء کے اہل خانہ کو ہر قسم کی ضروری مدد فراہم کی جائے گی۔