خیبر پختونخوا کے شہر بنوں میں دہشت گردی کی ایک سنگین واردات پیش آئی ہے جہاں “خارجی” عناصر نے پولیس چوکی فتح خیل کو بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع نے اس بزدلانہ حملے میں 3 پولیس اہلکاروں کی شہادت کی تصدیق کر دی ہے، جنہوں نے فرض کی انجام دہی کے دوران جامِ شہادت نوش کیا۔
دھماکے کی شدت
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے بارود سے بھری گاڑی پولیس چوکی سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں ہونے والا دھماکہ اس قدر زوردار تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔ اس حملے میں نہ صرف چوکی کی عمارت متاثر ہوئی بلکہ قریبی واقع سویلین گھروں کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کئی گھروں کی چھتیں گر گئی ہیں، جس سے جانی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق 3 پولیس اہلکار جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔
مسلح تصادم اور سیکیورٹی آپریشن
دھماکے کے فوراً بعد پولیس، سیکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان شدید فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا جو تاحال جاری ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو حصار میں لے لیا ہے اور دہشت گردوں کی موجودگی کے پیشِ نظر انتہائی احتیاط کے ساتھ جوابی کارروائی کی جا رہی ہے۔ علاقے میں اضافی نفری طلب کر لی گئی ہے تاکہ دہشت گردوں کا مکمل صفایا کیا جا سکے۔
کینٹ پر حملے کی تردید
حملے کے بعد سوشل میڈیا اور بعض حلقوں میں بنوں کینٹ پر حملے کی افواہیں گردش کر رہی تھیں، تاہم سیکیورٹی ذرائع نے ان اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ فورسز کی تمام تر توجہ اس وقت فتح خیل اور گردونواح میں جاری آپریشن پر مرکوز ہے۔ ریسکیو ٹیمیں بھی جائے وقوعہ پر پہنچ چکی ہیں تاکہ ملبے تلے دبے افراد یا زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔ علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور آپریشن مکمل ہونے تک شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔