ٹی ٹی پی کے سربراہ نے حالیہ آڈیو پیغام میں مسلح کارروائیاں روکنے کے لیے مشروط آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم اپنی جنگ کا تمام تر ذمہ دار مذہبی طبقے کو قرار دے کر انسدادِ شدت پسندی کے حامی علماء کے لیے نئے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔

May 10, 2026

بنوں کے علاقے فتح خیل میں پولیس چوکی پر بارود سے بھری گاڑی کے خودکش حملے میں 3 پولیس اہلکار شہید ہو گئے ہیں، جبکہ سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی جاری ہے۔

May 9, 2026

معروف تجزیہ کار عبداللہ خان نے ٹی ٹی پی کے امیر مفتی نور ولی محسود کو کھلا علمی چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ 500 علماء کے جس فتوے کو وہ اپنی جنگ کی بنیاد بناتے ہیں، اس میں ریاست کے خلاف بغاوت کا کوئی ذکر نہیں۔

May 9, 2026

افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت نے مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کر کے شیخ ادریس کی شہادت پر تعزیت کی، تاہم پاکستانی عوام نے ٹی ٹی پی کے حملوں پر کابل کی خاموشی کو ‘دوہرا معیار’ قرار دیا ہے۔

May 9, 2026

سیاسی جماعت پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیرِ اہتمام ملک بھر میں معرکۂ حق کی کامیابی کا ایک سال مکمل ہونے پر شاندار تقریبات کا انعقاد کیا گیا اور اس مناسبت سے ایک خصوصی ترانہ بھی جاری کیا گیا ہے۔

May 9, 2026

ضلع مہمند کے علاقے حلیم زئی میں ٹی ٹی پی کے سہولت کار احمد شیر کی گرفتاری کے لیے کیے گئے آپریشن کے دوران پی ٹی ایم کارکنوں نے فورسز پر حملہ کر دیا، جسے پولیس نے بروقت کارروائی کر کے ناکام بنا دیا۔

May 9, 2026

مسلح بغاوت کا کوئی شرعی جواز نہیں: عبداللہ خان کا مفتی نور ولی محسود کو چیلنج، ٹی ٹی پی بیانیے کے تضادات بے نقاب

معروف تجزیہ کار عبداللہ خان نے ٹی ٹی پی کے امیر مفتی نور ولی محسود کو کھلا علمی چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ 500 علماء کے جس فتوے کو وہ اپنی جنگ کی بنیاد بناتے ہیں، اس میں ریاست کے خلاف بغاوت کا کوئی ذکر نہیں۔
معروف تجزیہ کار عبداللہ خان نے ٹی ٹی پی کے امیر مفتی نور ولی محسود کو کھلا علمی چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ 500 علماء کے جس فتوے کو وہ اپنی جنگ کی بنیاد بناتے ہیں، اس میں ریاست کے خلاف بغاوت کا کوئی ذکر نہیں۔

تجزیہ کار عبداللہ خان کا مفتی نور ولی محسود کو علمی چیلنج۔ فتوے کی غلط تشریح، علماء پر بہتان اور مسلح کارروائیوں کے خلاف 'پیغامِ پاکستان' کی اہمیت پر تفصیلی بحث۔

May 9, 2026

معروف تجزیہ کار اور سکیورٹی امور کے ماہر عبداللہ خان نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے امیر مفتی نور ولی محسود کو ایک کھلا علمی چیلنج دیتے ہوئے ان کے مسلح جدوجہد کے بیانیے کو حقائق کے منافی قرار دے دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک تفصیلی بیان میں عبداللہ خان نے مفتی نور ولی محسود کی جانب سے 500 علماء کے فتوے کی غلط تشریح اور اسے دہشت گردی کے لیے بطورِ دلیل استعمال کرنے پر سخت گرفت کی ہے۔

علمی بددیانتی کا انکشاف

عبداللہ خان نے اپنے چیلنج میں کہا کہ مفتی نور ولی جس فتوے کو ریاست کے خلاف جنگ کی بنیاد قرار دیتے ہیں، اس میں کہیں بھی مسلح جدوجہد یا بغاوت کا حکم موجود نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ 2004 کے وانا آپریشن سے متعلق پوچھے گئے سوالات محض حکومتی اطاعت اور فوجی آپریشنز کی شرعی حیثیت تک محدود تھے، جن میں ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا کوئی ذکر نہیں تھا۔

عبداللہ خان کے مطابق مفتی نور ولی 500 علماء پر بہتان لگا رہے ہیں اور جذباتی نوجوانوں کو گمراہ کر کے خودکش بمبار بنا رہے ہیں۔

علمی تضادات اور پیغامِ پاکستان

تجزیہ کار نے مفتی نور ولی کی علمی بددیانتی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ٹی پی امیر نے فتوے کے پمفلٹ میں اپنی طرف سے ‘محاربین’ جیسے الفاظ شامل کیے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جن علماء (مثلاً مولانا عبدالرزاق سکندر اور دیگر) کا حوالہ ٹی ٹی پی دیتی ہے، وہی علماء ریاستِ پاکستان کے متفقہ فتوے ‘پیغامِ پاکستان’ کے نگران اور دستخط کنندہ ہیں، جو پاکستان میں ہر قسم کی مسلح کارروائی کو حرام قرار دیتا ہے۔ عبداللہ خان نے سوال اٹھایا کہ جب امریکہ خطے سے جا چکا ہے اور امارتِ اسلامیہ کے پاکستان سمیت دیگر ممالک سے تعلقات قائم ہیں، تو اب ٹی ٹی پی کس ‘جہاد’ کی بات کر رہی ہے؟

امارتِ اسلامیہ کے لیے مشورہ

عبداللہ خان نے مفتی نور ولی کو مشورہ دیا کہ وہ اس لایعنی جنگ سے توبہ کر لیں جس سے صرف اسلام اور مسلمان کمزور ہو رہے ہیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ ٹی ٹی پی کی کارروائیاں خود امارتِ اسلامیہ افغانستان کے لیے وبالِ جان بن چکی ہیں اور ان کی وجہ سے افغان طالبان کے اقتدار کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

حکومت سے عام معافی کا مطالبہ

عبداللہ خان نے حکومتِ پاکستان پر بھی زور دیا کہ وہ ان نوجوانوں کے لیے ‘عام معافی’ کا اعلان کرے جو ٹی ٹی پی سے تائب ہو کر قومی دھارے میں واپس آنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف طاقت کا راستہ حل نہیں، بلکہ جو لوگ واپس آنا چاہیں انہیں مالی اور سماجی سہولیات فراہم کر کے بحال کیا جانا چاہیے، کیونکہ ریاست کی سابقہ پالیسیوں کا بھی ان نوجوانوں کے اس راستے پر جانے میں عمل دخل رہا ہے۔

یہ علمی چیلنج ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹی ٹی پی کے بیانیے کو مذہبی اور علمی حلقوں میں مسلسل تنقید کا سامنا ہے اور عبداللہ خان کے اس موقف نے علمی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

متعلقہ مضامین

ٹی ٹی پی کے سربراہ نے حالیہ آڈیو پیغام میں مسلح کارروائیاں روکنے کے لیے مشروط آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم اپنی جنگ کا تمام تر ذمہ دار مذہبی طبقے کو قرار دے کر انسدادِ شدت پسندی کے حامی علماء کے لیے نئے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔

May 10, 2026

بنوں کے علاقے فتح خیل میں پولیس چوکی پر بارود سے بھری گاڑی کے خودکش حملے میں 3 پولیس اہلکار شہید ہو گئے ہیں، جبکہ سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی جاری ہے۔

May 9, 2026

افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت نے مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کر کے شیخ ادریس کی شہادت پر تعزیت کی، تاہم پاکستانی عوام نے ٹی ٹی پی کے حملوں پر کابل کی خاموشی کو ‘دوہرا معیار’ قرار دیا ہے۔

May 9, 2026

سیاسی جماعت پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیرِ اہتمام ملک بھر میں معرکۂ حق کی کامیابی کا ایک سال مکمل ہونے پر شاندار تقریبات کا انعقاد کیا گیا اور اس مناسبت سے ایک خصوصی ترانہ بھی جاری کیا گیا ہے۔

May 9, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *