معروف تجزیہ کار اور سکیورٹی امور کے ماہر عبداللہ خان نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے امیر مفتی نور ولی محسود کو ایک کھلا علمی چیلنج دیتے ہوئے ان کے مسلح جدوجہد کے بیانیے کو حقائق کے منافی قرار دے دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک تفصیلی بیان میں عبداللہ خان نے مفتی نور ولی محسود کی جانب سے 500 علماء کے فتوے کی غلط تشریح اور اسے دہشت گردی کے لیے بطورِ دلیل استعمال کرنے پر سخت گرفت کی ہے۔
علمی بددیانتی کا انکشاف
عبداللہ خان نے اپنے چیلنج میں کہا کہ مفتی نور ولی جس فتوے کو ریاست کے خلاف جنگ کی بنیاد قرار دیتے ہیں، اس میں کہیں بھی مسلح جدوجہد یا بغاوت کا حکم موجود نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ 2004 کے وانا آپریشن سے متعلق پوچھے گئے سوالات محض حکومتی اطاعت اور فوجی آپریشنز کی شرعی حیثیت تک محدود تھے، جن میں ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا کوئی ذکر نہیں تھا۔
مفتی نور ولی محسود کو کھلا علمی چیلنج
— Abdullah Khan (@AbdullahKhan333) May 9, 2026
جناب مفتی نور ولی محسود امیر تحریک طالبان پاکستان
آپ نے ایک بار پھر اپنے بیان میں پانچ سو علماء کرام کے فتوے کو پاکستانی ریاست کے خلاف اپنی مسلح جدوجہد کی بنیاد قرار دیا ہے۔ میرا آپ کو چیلنج ہے کہ جس فتوے پر پانچ سو علماء کرام نے دستخط کیے… pic.twitter.com/uRjY6xmAeF
عبداللہ خان کے مطابق مفتی نور ولی 500 علماء پر بہتان لگا رہے ہیں اور جذباتی نوجوانوں کو گمراہ کر کے خودکش بمبار بنا رہے ہیں۔
علمی تضادات اور پیغامِ پاکستان
تجزیہ کار نے مفتی نور ولی کی علمی بددیانتی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ٹی پی امیر نے فتوے کے پمفلٹ میں اپنی طرف سے ‘محاربین’ جیسے الفاظ شامل کیے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جن علماء (مثلاً مولانا عبدالرزاق سکندر اور دیگر) کا حوالہ ٹی ٹی پی دیتی ہے، وہی علماء ریاستِ پاکستان کے متفقہ فتوے ‘پیغامِ پاکستان’ کے نگران اور دستخط کنندہ ہیں، جو پاکستان میں ہر قسم کی مسلح کارروائی کو حرام قرار دیتا ہے۔ عبداللہ خان نے سوال اٹھایا کہ جب امریکہ خطے سے جا چکا ہے اور امارتِ اسلامیہ کے پاکستان سمیت دیگر ممالک سے تعلقات قائم ہیں، تو اب ٹی ٹی پی کس ‘جہاد’ کی بات کر رہی ہے؟
امارتِ اسلامیہ کے لیے مشورہ
عبداللہ خان نے مفتی نور ولی کو مشورہ دیا کہ وہ اس لایعنی جنگ سے توبہ کر لیں جس سے صرف اسلام اور مسلمان کمزور ہو رہے ہیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ ٹی ٹی پی کی کارروائیاں خود امارتِ اسلامیہ افغانستان کے لیے وبالِ جان بن چکی ہیں اور ان کی وجہ سے افغان طالبان کے اقتدار کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
حکومت سے عام معافی کا مطالبہ
عبداللہ خان نے حکومتِ پاکستان پر بھی زور دیا کہ وہ ان نوجوانوں کے لیے ‘عام معافی’ کا اعلان کرے جو ٹی ٹی پی سے تائب ہو کر قومی دھارے میں واپس آنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف طاقت کا راستہ حل نہیں، بلکہ جو لوگ واپس آنا چاہیں انہیں مالی اور سماجی سہولیات فراہم کر کے بحال کیا جانا چاہیے، کیونکہ ریاست کی سابقہ پالیسیوں کا بھی ان نوجوانوں کے اس راستے پر جانے میں عمل دخل رہا ہے۔
یہ علمی چیلنج ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹی ٹی پی کے بیانیے کو مذہبی اور علمی حلقوں میں مسلسل تنقید کا سامنا ہے اور عبداللہ خان کے اس موقف نے علمی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔