ضلع بھکر کی داجل چیک پوسٹ پر گزشتہ شام ایک خودکش حملہ کیا گیا، جس میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے فوری بعد کالعدم اتحاد المجاہدین پاکستان سے وابستہ گروہ ‘انصار الاسلام’ نے واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق 24 فروری کی شام پونے سات بجے کے قریب دریائے سندھ کے پار بین الصوبائی سرحد پر قائم داجل چیک پوسٹ پر ایک خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ انصار الاسلام کے ترجمان کے مطابق یہ حملہ ان کے کارندے ابو دردا نے انجام دیا۔ عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کاروائی ایک منظم منصوبے کے تحت کی گئی، جس کا مقصد سکیورٹی فورسز کے حوصلے پست کرنا اور علاقے میں خوف و ہراس پھیلانا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ بیرونی عناصر اورملک دشمن خفیہ ایجنسیوں کی ایماء پر کی جانے والی پراکسی جنگ کا حصہ ہے، جس کا واحد ہدف پاکستان کے استحکام کو نقصان پہنچانا ہے۔ حالیہ دنوں میں سرحد پار سے ملنے والی دھمکیوں نے ان دہشت گرد گروہوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا ہے، تاہم ریاست نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے دباؤ میں آئے بغیر دہشت گردوں کے سرپرستوں کو کٹہرے میں لائے گی۔
اس افسوسناک واقعے میں جامِ شہادت نوش کرنے والے پولیس اہلکاروں کی قربانی کو قومی اعزاز قرار دیتے ہوئے حکومت نے ان کے لواحقین کی مکمل کفالت اور فلاح و بہبود کا اعلان کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گرد سیاسی تقسیم کا فائدہ اٹھاتے ہیں، لہٰذا اس وقت قومی یکجہتی اور یکسوئی ناگزیر ہے۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار، جدید سازوسامان اور انٹیلی جنس معاونت میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے بزدلانہ حملوں کا مؤثر سدباب کیا جا سکے۔
دیکھیے: افغانستان میں طالبان کی نسلی اجارہ داری علاقائی عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے: ڈاکٹر ابراہیم المراشی