لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

افغانستان میں طالبان کی نسلی اجارہ داری علاقائی عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے: ڈاکٹر ابراہیم المراشی

معروف ماہرِ تعلیم ڈاکٹر ابراہیم المراشی نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی نسلی بنیادوں پر اجارہ دارانہ حکومت اور غیر شمولیتی نظام اندرونی مزاحمت اور علاقائی عدم استحکام کو ہوا دے رہا ہے
معروف ماہرِ تعلیم ڈاکٹر ابراہیم المراشی نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی نسلی بنیادوں پر اجارہ دارانہ حکومت اور غیر شمولیتی نظام اندرونی مزاحمت اور علاقائی عدم استحکام کو ہوا دے رہا ہے

کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ابراہیم المراشی نے ایشیا ون کو دیے گئے انٹرویو میں افغانستان میں طاقت کے عدمِ توازن، نسلی گروہوں کی سیاسی محرومی اور سرحد پار دہشت گردی کے خطرات کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا ہے

February 24, 2026

کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی سان مارکوس کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ابراہیم المراشی نے کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کا نظامِ حکومت نسلی اعتبار سے محدود اور اجارہ دارانہ ہے، جس کی وجہ سے اندرونی مزاحمت، علاقائی تشویش اور عدمِ استحکام میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ٹام فِل پوٹ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے افغانستان کے سیاسی اور سکیورٹی چیلنجز پر اہم گفتگو کی۔

ڈاکٹر ابراہیم المراشی کے مطابق 2021 میں طالبان کے دوبارہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد تاجک، ہزارہ، ازبک اور ترکمن جیسے نسلی گروہ بامعنی سیاسی طاقت سے مکمل طور پر محروم ہو چکے ہیں اور انہیں شدید سیاسی تنہائی اور غیر یقینی مستقبل کا سامنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت غلزئی پشتونوں کے زیرِ اثر ہے، جس کی وجہ سے اقتدار کی بنیاد انتہائی محدود ہو گئی ہے اور حکومت اتفاقِ رائے کے بجائے جبر کے اصول پر چل رہی ہے۔

دورانِ انٹرویو ڈاکٹر ابراہیم نے تاریخی تناظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کا تاجکوں کے ساتھ، بالخصوص پنجشیر میں احمد شاہ مسعود کی قیادت میں رہنے والی مزاحمتی فورسز کے ساتھ ٹکراؤ کا ایک روایتی تسلسل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 1990 کی دہائی میں بھی القاعدہ نے طالبان کے اسی نسلی تصادم پر انحصار کرتے ہوئے افغانستان میں جگہ حاصل کی تھی۔

سکیورٹی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طالبان اسلامک اسٹیٹ خراسان اور تحریک طالبان پاکستان جیسے گروہوں کو لگام دینے میں ناکام رہے ہیں، جو علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ ڈاکٹر ابراہیم نے پاکستان کے سرحدی سکیورٹی خدشات کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغان سرحد کے پار شدت پسندوں کی سرگرمیاں پاکستان کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہیں۔

پروفیسر المراشی نے اختتام پر کہا کہ اگرچہ ہمسایہ ممالک نسلی یکجہتی کے بجائے اپنے استحکام کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن کابل کی غیر شمولیتی حکومت کی ناکامی علاقائی اعتماد کو متاثر کر رہی ہے۔ جب تک افغانستان میں ایک مضبوط شمولیتی نظام قائم نہیں ہوتا اور تمام نسلی گروہوں کو نمائندگی نہیں ملتی، تب تک پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔

دیکھیے: افغانستان میں 23 ہزار غیر ملکی جنگجوؤں کی موجودگی: روسی وزارتِ خارجہ نے رپورٹ جاری کردی

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *