"> جھل مگسی بلیک آؤٹ: بی ایل اے کا بجلی گھر پر حملہ، 50 ہزار افراد متاثر؛ ٹاورز اور تاروں کو نشانہ بنایا گیا - HTN Urdu جھل مگسی بلیک آؤٹ: بی ایل اے کا بجلی گھر پر حملہ، 50 ہزار افراد متاثر؛ ٹاورز اور تاروں کو نشانہ بنایا گیا
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

جھل مگسی بلیک آؤٹ: بی ایل اے کا بجلی گھر پر حملہ، 50 ہزار افراد متاثر؛ ٹاورز اور تاروں کو نشانہ بنایا گیا

بلیک آؤٹ کے باعث ٹیوب ویلز بند ہو گئے، ہسپتالوں کی سروسز متاثر ہوئیں، آپریشن تھیٹرز کو خطرات لاحق ہوئے جبکہ طلبا انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہو گئے۔
جھل مگسی بلیک آؤٹ

نامعلوم حملہ آوروں نے پہلے 132 کے وی ٹرانسمیشن ٹاورز کو نشانہ بنایا، جس کے بعد 33 کے وی لائن پر بھی کارروائی کی گئی۔

March 31, 2026

جھل مگسی: 29 مارچ کی رات بلوچستان کے ضلع جھل مگسی کا علاقہ گنداواہ مکمل اندھیرے میں ڈوب گیا، جہاں بجلی کے نظام پر منظم حملے کے بعد 50 ہزار سے زائد افراد شدید مشکلات کا شکار ہو گئے۔

ذرائع کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں نے پہلے 132 کے وی ٹرانسمیشن ٹاورز کو نشانہ بنایا، جس کے بعد 33 کے وی لائن پر بھی کارروائی کی گئی۔ رات کی تاریکی میں 26 کھمبوں سے تاریں اتار لی گئیں جبکہ 5 کھمبوں کو گرا دیا گیا، جس کے نتیجے میں پورا علاقہ بلیک آؤٹ ہو گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ کوئی معمولی تخریب کاری نہیں بلکہ ایک منظم اور منصوبہ بند کارروائی تھی، جس کا مقصد بنیادی انفراسٹرکچر کو مفلوج کرنا تھا۔ یہ واقعہ گزشتہ دو ماہ میں اس نوعیت کی دوسری بڑی کارروائی ہے، اس سے قبل بھی درجنوں کھمبوں سے تاریں چوری کی جا چکی ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق اس بلیک آؤٹ کے باعث ٹیوب ویلز بند ہو گئے، ہسپتالوں کی سروسز متاثر ہوئیں، آپریشن تھیٹرز کو خطرات لاحق ہوئے جبکہ طلبا انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہو گئے۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بی ایل اے جیسے گروہوں کی کارروائیاں دراصل سکیورٹی فورسز کے خلاف نہیں بلکہ براہ راست عام شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہیں، جس سے روزمرہ زندگی مفلوج ہو رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ حکمت عملی واضح طور پر عوامی دباؤ بڑھانے اور ریاستی نظام کو کمزور کرنے کی کوشش ہے، جس کے تحت بنیادی سہولیات کو نشانہ بنا کر عدم استحکام پیدا کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب سکیورٹی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ بلوچستان میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات کسی حد تک بیرونی عناصر کے اثر و رسوخ سے بھی جڑے ہو سکتے ہیں، جہاں بھارت اور اسرائیل کے پراکسی نیٹ ورکس کے دوبارہ فعال ہونے کے شواہد سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق بی ایل اے اور بی ایل ایف جیسے گروہ مکمل طور پر خودمختار نہیں بلکہ بیرونی ایجنڈے کے تحت کام کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حملے نہ صرف ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں بلکہ یہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم کر کے انہیں مزید مشکلات میں دھکیل رہے ہیں۔

دیکھئیے:جھل مگسی کے تھانہ کوٹرا پر فتنہ الخوارج کا حملہ؛ 11 سالہ بچہ شہید، دو حملہ آور ہلاک

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *