ایرانی دارالحکومت میں سابق افغان کمانڈرز کے قتل کے پیچھے مبینہ طور پر طالبان اور سپاہ پاسداران کے عناصر کارفرما ہیں۔ اس موقع پر پاکستان نے ایران و افغان میڈیا کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے اپنے مؤقف واضح کردیا۔
پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ ملک میں موجود سابق افغان فوجی افسران اور سیاسی شخصیات چاہے ان کا ماضی کچھ بھی رہا ہو ان کو مکمل تحفظ حاصل ہے۔ سرکاری ترجمان کے مطابق پاکستان نے نہ کسی سابق فوجی کو ملک بدر کیا ہے اور نہ ہی طالبان کے ذریعے انہیں نقصان پہنچانے دیا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں مقیم سابق افغان فوجی رہنماﺅں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ گذشتہ ہفتے طالبان کے مخالف سمجھے جانے والے جنرل اکرام الدین ساری اور ان کے ساتھی کمانڈر الماس کو تہران میں نامعلوم مسلح افراد نے قتل کر دیا۔ معتبر ذرائع کے مطابق اس واقعے میں طالبان کے خفیہ یونٹس اور ایران کی سپاہ پاسداران کے عناصر ملوث ہو سکتے ہیں۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جنرل ساری نے اپنی شہادت سے کچھ دن قبل ہی میڈیا کو بتایا تھا کہ ان سمیت ایران میں موجود کئی سابق افغان فوجی طالبان کی کاروائیوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے ایرانی حکام سے تحفظ کی اپیل بھی کی تھی، تاہم اطلاعات کے مطابق انہیں حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے۔
مبصرین کے مطابق اسلام آباد اور طالبان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد سے ایران نے طالبان کے ساتھ اپنے سیاسی و سیکیورٹی تعلقات میں اضافہ کیا ہے۔ اس پس منظر میں یہ کوششیں کی جا رہی ہیں کہ تہران میں ہونے والے قتل کا الزام پاکستان سمیت دیگر فریقین پر ڈال کر اصل مجرموں کو چھپایا جائے۔
ذرائع کے مطابق ایران نے گزشتہ عرصے میں سینکڑوں سابق افغان فوجیوں کے قانونی دستاویزات کو نظرانداز کرتے ہوئے انہیں افغستان کی سرحد پر طالبان کے حوالے کیا، جہاں درجنوں افراد کو ہلاک اور سینکڑوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
فی الحال ایران طالبان کو اپنا “قریبی دفاعی شراکت دار” قرار دیتا ہے دونوں کے درمیان تعاون عروج پر ہے، جبکہ طالبان ارکان ایران میں کئی سرگرمیوں میں بھی باقاعدگی سے حصہ لیتے رہتے ہیں۔
پاکستان نے اس ساری صورتحال میں اپنے رویے کو شفاف قرار دیتے ہوئے تمام سابق افغان فوجیوں کے ساتھ انسانی ہمدردی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق سلوک کرنے پر زور دیا ہے۔
دیکھیں: بھارتی فضائیہ نے پاکستانی سرحد کے قریب فضائی مشقوں کا اعلان کردیا