وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایران پر حالیہ حملے کو خطے کی صورتحال کو مزید سنگین بنانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد عالمی توجہ کو غزہ سے ہٹانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بین الاقوامی میڈیا کی توجہ ایران کی جانب مبذول ہو جائے تو غزہ اور مغربی کنارے میں جاری کارروائیاں پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت تاریخ کے ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے اور خطے میں کشیدگی کو دانستہ طور پر بڑھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ صہیونی نظریہ عالمی سیاست اور معیشت پر اثر انداز ہو کر بڑی طاقتوں کو بھی اپنے مفادات کے تابع کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ ان کے مطابق فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کے قیام سے لے کر آج تک مسلم دنیا کو درپیش کئی تنازعات میں اس نظریے کا براہِ راست یا بالواسطہ کردار رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے مذاکرات کی آمادگی کے باوجود اس پر جنگ مسلط کی گئی، جس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر خطے میں طاقت کا توازن مزید بگڑتا ہے تو اس کے نتائج جنوبی ایشیا تک محسوس کیے جائیں گے اور پاکستان کو گھیرنے کی کوششیں تیز ہو سکتی ہیں۔
وزیر دفاع نے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک ایک ایٹمی طاقت ہے اور اس کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خودمختاری شہداء اور غازیوں کی قربانیوں کی مرہونِ منت ہے۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں کیے گئے ایٹمی دھماکوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان فیصلوں نے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کے 25 کروڑ عوام کو سیاسی و مذہبی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر خطے میں ہونے والی پیش رفت اور ممکنہ سازشوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مسلم دنیا کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے دعا کی کہ فلسطین کو آزادی نصیب ہو اور پاکستان مضبوط و محفوظ رہے۔
ان کے بیان کو مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سیاسی ردعمل قرار دیا جا رہا ہے، جس میں انہوں نے نہ صرف علاقائی صورتحال پر تشویش ظاہر کی بلکہ پاکستان کے دفاع اور قومی سلامتی کے حوالے سے واضح پیغام بھی دیا۔