امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان پہلا باضابطہ ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔ 45 منٹ تک جاری رہنے والی اس طویل گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال اور آئندہ کی سفارتی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
ایرانی وفد کی پاکستان آمد اور مذاکرات
ایرانی صدر نے وزیراعظم شہباز شریف کو آگاہ کیا کہ ایران کا دو رکنی اعلیٰ سطح وفد، جس میں اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شامل ہیں، جلد پاکستان پہنچے گا۔ اس دورے کا مقصد اسلام آباد میں جمعہ کے روز امریکا اور ایران کے درمیان متوقع وفود کی سطح کے مذاکرات میں شرکت کرنا ہے۔ ایرانی صدر نے وزیراعظم کی جانب سے ان مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کو بھی باضابطہ طور پر قبول کر لیا ہے۔
جنگ بندی پر قیادت کا مؤقف
وزیراعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے کے مطابق شہباز شریف نے جنگ بندی پر آمادگی کے حوالے سے ایرانی قیادت کی بصیرت اور دور اندیشی کی تعریف کی۔ دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں جنگ بندی کو ایرانی اصولوں اور شہدا کی قربانیوں کا ثمر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اب سفارتکاری اور دفاع کے محاذ پر مزید متحد ہو کر کام کرے گا۔ واضح رہے کہ یہ پیش رفت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کی دو ہفتہ کی جنگ بندی کی درخواست قبول کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔