"> ڈالری جنگ کا طعنہ؟ مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کے سفارتی کردار نے آزاد خارجہ پالیسی پر مہر ثبت کر دی - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

ڈالری جنگ کا طعنہ؟ مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کے سفارتی کردار نے آزاد خارجہ پالیسی پر مہر ثبت کر دی

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کی کامیاب ثالثی نے ‘ڈالری جنگ’ کا راگ الاپنے والے ناقدین کو خاموش کر دیا۔ یہ رپورٹ پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی، قرضوں کی واپسی اور جنگ کے بجائے امن کے مشکل انتخاب کے ذریعے حاصل ہونے والے عالمی وقار کا احاطہ کرتی ہے
مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کی کامیاب ثالثی نے 'ڈالری جنگ' کا راگ الاپنے والے ناقدین کو خاموش کر دیا۔ یہ رپورٹ پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی، قرضوں کی واپسی اور جنگ کے بجائے امن کے مشکل انتخاب کے ذریعے حاصل ہونے والے عالمی وقار کا احاطہ کرتی ہے

جب دنیا کی واحد سپر پاور اور عرب دنیا کے امیر ترین ممالک ایران کے خلاف صف آرا تھے، تو پاکستان کے لیے بہت آسان تھا کہ وہ امریکہ اور دیگر اتحادیوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے جنگی اتحاد کا حصہ بن جاتا۔ لیکن پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے 'آسان جنگ' کے بجائے 'مشکل امن' کا راستہ منتخب کر کے دنیا کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا

April 8, 2026

مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ بحران میں پاکستان کے کلیدی اور مخلصانہ کردار نے ان تمام عناصر کے پراپیگنڈے کو خاک میں ملا دیا ہے جو برسوں سے پاکستان کو ‘ڈالری جنگ’ کا طعنہ دیتے آ رہے تھے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی اور مذاکرات کی راہ ہموار کر کے پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ اس کی خارجہ پالیسی اب کسی عالمی دباؤ یا مالی منفعت کی مرہونِ منت نہیں بلکہ خالصتاً عالمی امن اور قومی مفاد پر مبنی ہے۔

جب دنیا کی واحد سپر پاور اور عرب دنیا کے امیر ترین ممالک ایران کے خلاف صف آرا تھے، تو پاکستان کے لیے بہت آسان تھا کہ وہ امریکہ اور دیگر اتحادیوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے جنگی اتحاد کا حصہ بن جاتا۔ لیکن پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے ‘آسان جنگ’ کے بجائے ‘مشکل امن’ کا راستہ منتخب کر کے دنیا کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا۔ یہ فیصلہ اس حقیقت کا عکاس ہے کہ پاکستان اب عالمی سیاست میں ایک کرائے کے سپاہی کے طور پر نہیں بلکہ ایک باوقار ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔

خارجہ پالیسی اور خود مختاری

پاکستان کا یہ غیر جانبدارانہ اور امن پسندانہ رویہ بعض علاقائی طاقتوں خصوصاً متحدہ عرب امارات کی توقعات سے مطابقت نہیں رکھتا تھا، جو ایران کے خلاف سخت مؤقف کے حامی تھے۔ تاہم پاکستان نے ایک تاریخی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف امن کا ساتھ دیا بلکہ مشکل معاشی حالات کے باوجود غیر ملکی قرضے واپس کر کے یہ واضح پیغام دیا کہ اس کی خارجہ پالیسی کسی مالی امداد کی محتاج نہیں۔ یہ عمل ان ناقدین کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے جو پاکستان کی پالیسیوں کو ڈالروں سے جوڑتے تھے۔

ادارے اور ریاست پر تنقید کرنے والوں کا محاسبہ

مذکورہ سفارتی کامیابی نے ان ناعاقبت اندیش عناصر کو بھی بے نقاب کر دیا ہے جو حکومت اور ریاستی اداروں سے بغض کی بنیاد پر ملک کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے عناصر محض سیاسی مخالفت میں قومی عزم و حوصلے کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن عالمی سطح پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر عالمی رہنماؤں کی جانب سے پاکستانی قیادت کے وقار کا اعتراف ان منفی ذہنوں کے لیے واضح جواب ہے۔

پاکستان کی حالیہ کامیابی محض ایک جنگ بندی نہیں بلکہ ایک نئی اسٹریٹجک سمت کا تعین ہے جہاں پاکستان خود کو امتِ مسلمہ کے اتحاد کا مرکز اور عالمی امن کا ضامن گردانتا ہے۔ اسلام آباد نے ثابت کر دیا ہے کہ اس کا قد و قامت اب پہلے سے کہیں بلند ہے اور وہ عالمی منظر نامے پر ایک ایسا ناگزیر کھلاڑی ہے جس کے بغیر استحکام ممکن نہیں۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *