"> ارمچی مذاکرات: پاک افغان تعلقات میں بہتری کے آثار، کابل کے رویے میں مثبت پیش رفت - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

ارمچی مذاکرات: پاک افغان تعلقات میں بہتری کے آثار، کابل کے رویے میں مثبت پیش رفت

ارمچی میں چین کی سہولت کاری سے ہونے والے پاک افغان مذاکرات کابل کے رویے میں تبدیلی کا اشارہ دے رہے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ مکالمے کی حمایت کی ہے، تاہم اس عمل کی کامیابی کا انحصار ٹی ٹی پی جیسی تنظیموں کے خلاف افغان حکومت کے ٹھوس اور عملی اقدامات پر ہے
ارمچی میں چین کی سہولت کاری سے ہونے والے پاک افغان مذاکرات کابل کے رویے میں تبدیلی کا اشارہ دے رہے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ مکالمے کی حمایت کی ہے، تاہم اس عمل کی کامیابی کا انحصار ٹی ٹی پی جیسی تنظیموں کے خلاف افغان حکومت کے ٹھوس اور عملی اقدامات پر ہے

تجزیہ کاروں کے مطابق مذاکرات کو میڈیا کی نظروں سے دور رکھنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دونوں فریق اب سنجیدہ اور نتیجہ خیز نتائج حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں

April 8, 2026

پاک افغان سرحد پر جاری حالیہ کشیدگی کے سائے میں دونوں ممالک کے درمیان ایک بار پھر ‘سفارت کاری’ کا آغاز ہو گیا ہے۔ چین کی سہولت کاری سے ارمچی میں ہونے والے ان مذاکرات اور افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے حالیہ بیانات نے کابل کے رویے میں ایک محتاط لیکن مثبت تبدیلی کی نشاندہی کی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مذاکرات کو میڈیا کی نظروں سے دور رکھنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دونوں فریق اب سنجیدہ اور نتیجہ خیز نتائج حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

پاکستان نے ہمیشہ اس اصولی مؤقف کی حمایت کی ہے کہ پاک افغان سرحد پر جاری کشیدگی کا حل صرف اور صرف مکالمے میں موجود ہے۔ سرحد پر تناؤ کے باوجود پاکستان نے کبھی بھی بات چیت کا راستہ بند نہیں کیا۔ تاہم ماضی کا ریکارڈ شاہد ہے کہ افغان فریق کی جانب سے مسلسل سفارتی روابط میں ہچکچاہٹ اور تاخیری حربوں کے باعث بامعنی پیش رفت ہمیشہ تعطل کا شکار رہی۔ کابل کی جانب سے مذاکرات کے لیے موجودہ آمادگی بلاشبہ ایک خوش آئند قدم ہے، لیکن اس لچک کو اب زمین پر نظر آنے والے عملی اقدامات میں بدلنا ہوگا۔

ٹی ٹی پی اور محفوظ پناہ گاہیں: اصل چیلنج

سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاک افغان تعلقات میں بہتری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ افغانستان کے اندر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں، خصوصاً تحریک طالبان پاکستان جیسے گروہوں کی موجودگی ہے۔ پاکستان نے ارمچی مذاکرات میں بھی یہ واضح کر دیا ہے کہ سکیورٹی خدشات کا حل ہی وہ واحد راستہ ہے جو اعتماد سازی اور دیرپا استحکام کی طرف جاتا ہے۔ جب تک افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف ٹھوس کارروائی نہیں کی جاتی، تب تک کسی بھی معاہدے کا عملی طور پر کامیاب ہونا مشکل نظر آتا ہے۔

سنجیدگی اور جوابدہی کی ضرورت

ماہرینِ سیاسیات کے مطابق سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے، مگر اس کے لیے دونوں اطراف سے غیر معمولی سنجیدگی اور جوابدہی کی ضرورت ہے۔ اگر کابل واقعی تعلقات کو نئی نہج پر استوار کرنا چاہتا ہے تو اسے عسکریت پسندی کے خلاف ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جو محض علامتی نہ ہوں بلکہ زمینی حقائق کو تبدیل کر سکیں۔

ارمچی میں ہونے والے ان مشاورتی مذاکرات کی کامیابی کا تمام تر دارومدار اس بات پر ہے کہ افغانستان پاکستان کے سکیورٹی تحفظات کو کس حد تک دور کرتا ہے۔ پاکستان اب بھی ایک برادر ملک کے طور پر افغانستان کے ساتھ کھڑا ہے، لیکن دیرپا امن کے لیے کابل کو اپنی سرزمین سے ہونے والی شدت پسندی کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *