چین میں گزشتہ سال کے دوران بدعنوانی کے الزامات پر 69 اعلیٰ سطحی حکام کو سزا دی گئی۔ امریکی جریدے بلوم برگ کے مطابق چین میں گزشتہ ایک سال میں مجموعی طور پر ایک لاکھ سے زائد بدعنوانی کے کیسوں کی تحقیقات کی گئیں اور 9 لاکھ 83 ہزار افراد کو مختلف سزائیں دی گئیں۔
مذکورہ کارروائیاں وزیر اور صوبائی سطح کے اعلیٰ عہدیداروں کو بھی شامل کرتے ہوئے کی گئیں، جو ظاہر کرتی ہیں کہ چین میں بدعنوانی کے خلاف احتساب ہر سطح پر جاری ہے۔ مہم کے دوران مالی بدعنوانی، رشوت ستانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور غیر قانونی ٹھیکوں کی تحقیقات کی گئیں۔
چینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ مہم صرف قانونی عمل کے لیے نہیں بلکہ ملک میں شفافیت کو فروغ دینے اور قومی ترقی کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ چھوٹے افسران سے لے کر اعلیٰ عہدے داران تک سب کو اس کارروائی میں شامل کیا گیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ چین میں بدعنوانی کے خلاف اقدامات جامع اور بلا تفریق ہیں۔
دیکھیں: پاکستان کا اقوام متحدہ میں ایران کی صورتحال پر تشویش کا اظہار، پُرامن حل اور مذاکرات پر زور