مددگار یا مکار؟ جب محافظ ہی قاتل اور درندے بن جائیں

مددگار یا مکار؟

مظفرگڑھ اور فیصل آباد کے افسوسناک واقعات نے رشتوں کے خلوص اور تحفظ کے دعوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنہیں ہم اپنا محافظ اور ہمدرد سمجھتے ہیں، وہ حقیقت میں مددگار ہیں یا مکار؟

پاکستان کا اقوام متحدہ میں ایران کی صورتحال پر تشویش کا اظہار، پُرامن حل اور مذاکرات پر زور

پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران میں موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کیا اور تمام فریقین سے مذاکراتی عمل اپنانے کی اپیل کی
پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران میں موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کیا اور تمام فریقین سے مذاکراتی عمل اپنانے کی اپیل کی

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران میں حالات جلد معمول پر آئیں گے اور تمام فریق باہمی احترام کے ساتھ پائیدار حل تلاش کریں گے

January 16, 2026

پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران میں موجودہ حالات کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فریقین سے مذاکراتی عمل اپنانے کی اپیل کی۔

اقوام متحدہ کی سلامتی سے خطاب کرتے ہوئے عاصم افتخار نے کہا کہ ایران پاکستان کا ہمسایہ اور برادر ملک ہے، جس کے ساتھ ہمارے گہرے تاریخی، ثقافتی، مذہبی اور دوستانہ تعلقات ہیں۔ انہوں نے ایران میں حالیہ سیاسی اور اقتصادی کشیدگی اور اس سے پیدا ہونے والے خطے میں خطرات پر تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے واضح انداز میں کہا کہ تمام تنازعات کا حل پُرامن طریقوں اور بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں ہی ممکن ہے۔ کسی بھی فریق کی طرف سے جارحیت، یکطرفہ اقدامات یا طاقت کے بے جا استعمال سے نہ صرف مسائل مزید بڑھیں گے بلکہ خطے کا امن و استحکام بھی متاثر ہوگا۔

پس منظر
ایران میں گزشتہ برسوں میں داخلی اور علاقائی کشیدگی بڑھتی رہی ہے، جس میں امریکہ اور یورپی ممالک کے ساتھ تناؤ، معاشی پابندیاں، سیاسی بحران اور عوامی احتجاجی مظاہرے شامل ہیں۔ اس صورتحال نے خطے میں امن و استحکام کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور پاکستان سمیت دیگر ہمسایہ ممالک کے لیے بھی مسائل پیدا کیے ہیں۔ ایران کی معاشی مشکلات، توانائی کی قلّت، اور سیاسی دھڑوں میں تصادم، خطے کی سلامتی کے لیے فوری توجہ طلب ہے۔

عاصم افتخار نے مزید کہا کہ تمام متعلقہ فریقین تحمل، بردباری اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جو خطے یا عالمی امن کے لیے خطرہ ہو۔ انہوں نے مذاکرات اور سفارتی کوششوں کو ہی مستقل حل قرار دیا۔

عاصم افتخار نے کہا کہ ایران میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، معاشی بحران، داخلی سیاسی تناؤ اور معاشرتی مسائل خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی چیلنج بن سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام فریق بین الاقوامی اصولوں، مذاکرات اور باہمی احترام کے ذریعے اپنے اختلافات کا حل تلاش کریں۔

انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے ایران اور دیگر متعلقہ فریقین کے ساتھ سفارتی رابطوں کو فروغ دینے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے سرگرم کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔ پاکستان کی رائے میں، ایران میں استحکام خطے کے مجموعی امن اور ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔

انہوں نے اپنی گفتگو کے اختتام پر کہا کہ پاکستان امید کرتا ہے کہ ایران میں حالات جلد معمول پر آئیں گے، ملک داخلی انتشار اور بیرونی مداخلت سے بالا تر ہوگا، اور تمام فریق باہمی احترام کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے اپنے اختلافات کا مستقل اور پائیدار حل تلاش کریں گے۔

متعلقہ مضامین

پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کا بدر ایم او یو دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی اور مشترکہ پیداوار میں تعاون بڑھانے کی اہم پیش رفت ہے۔

November 6, 2026

سعودی اتحاد نے مکہ ریجن کی جانب آنے والے ڈرون کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔

November 6, 2026

چین نے ڈی ایف 61 بین البراعظمی میزائل کو راکٹ فورس میں شامل کرلیا، شمالی کوریا کے نئے تجربات اور جاپان کی جوہری پالیسی بھی عالمی توجہ کا مرکز بن گئی۔

November 6, 2026

مظفرگڑھ اور فیصل آباد کے افسوسناک واقعات نے رشتوں کے خلوص اور تحفظ کے دعوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنہیں ہم اپنا محافظ اور ہمدرد سمجھتے ہیں، وہ حقیقت میں مددگار ہیں یا مکار؟

November 6, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *