بیجنگ نے ایران میں جاری داخلی بے چینی پر باضابطہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے ایران کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز کرے۔ چین کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ امید کرتی ہے کہ ایران اپنے موجودہ مسائل پر قابو پا لے گا اور ملک میں استحکام برقرار رہے گا۔
🚨🇮🇷🇨🇳 CHINA BACKS IRAN, TELLS THE WORLD: “MIND YOUR OWN BUSINESS”
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) January 12, 2026
Beijing just weighed in on Iran’s unrest, and it’s not standing with the protesters.
China’s Foreign Ministry says it “hopes Iran will overcome its difficulties” and called for “stability,” while reminding… pic.twitter.com/ulfnppNHF6
چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق، چین ہمیشہ ریاستی خودمختاری اور عدم مداخلت کے اصول کا حامی رہا ہے اور کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں بیرونی دباؤ یا مداخلت کی مخالفت کرتا ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ ایران کی صورتحال اس کا داخلی معاملہ ہے، جسے ایرانی حکومت اور عوام کو خود حل کرنا چاہیے۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، چین کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کو شدید معاشی بحران اور ملک گیر احتجاجی تحریک کا سامنا ہے۔ بیجنگ کے اس مؤقف کو ایران کی موجودہ حکومت کے لیے سفارتی حمایت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ مغربی ممالک انسانی حقوق اور مظاہرین کے خلاف سخت کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ چین کا مؤقف اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ وہ خطے میں استحکام کو ترجیح دیتے ہوئے ریاستی کنٹرول کو داخلی معاملہ تصور کرتا ہے۔
دیکھیں: افغان مہاجرین کو روزگار کے شدید مسائل کا سامنا: اقوامِ متحدہ