افغانستان کی صورتحال پر عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔ جہاں ایک جانب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں چین نے دہشت گرد گروہوں کی موجودگی پر کڑی تنبیہ کی ہے، وہیں دوسری جانب امریکہ نے طالبان کی ‘یرغمالی سفارت کاری’ کے خلاف سخت کاروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
چین کا سلامتی کونسل میں انتباہ
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چین کے مستقل مندوب فو کونگ نے خبردار کیا کہ داعش خراسان، القاعدہ، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) اور تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت کئی دہشت گرد گروہ اب بھی افغانستان میں فعال ہیں۔ انہوں نے ان گروہوں کو افغانستان اور اس کے ہمسایہ ممالک کے لیے ایک “سنگین خطرہ” قرار دیتے ہوئے افغان حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردی کے نقصانات کا ادراک کرتے ہوئے علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر ان قوتوں کا فیصلہ کن خاتمہ کریں۔
چین نے سلامتی کونسل میں اپنے بیان کے ذریعے یہ واضح کر دیا ہے کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال محض داخلی معاملہ نہیں بلکہ ایک علاقائی سکیورٹی چیلنج بن چکا ہے۔ بیجنگ کے نزدیک افغان سرزمین کا دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونا بین الاقوامی استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
اسی خدشے کے پیشِ نظر چین نے زور دیا ہے کہ طالبان حکومت کو نہ صرف اپنے وعدوں پر عمل درآمد کرنا ہوگا بلکہ ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ٹھوس اور ناقابلِ تردید اقدامات کرنے ہوں گے جو نہ صرف افغانستان کی خودمختاری کے لیے خطرہ ہیں بلکہ پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات میں بھی مستقل تناؤ اور بداعتمادی کا باعث بن رہے ہیں۔
امریکہ کا سخت ردعمل
دوسری جانب امریکی انتظامیہ نے بھی طالبان کے طرزِ عمل پر سخت مؤقف اپناتے ہوئے افغانستان کو سرکاری طور پر ‘ناجائز حراست میں رکھنے والی ریاست’ (اسٹیٹ اسپانسر آف رانگ فل ڈیٹینشن) نامزد کر دیا ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا کہ طالبان کی جانب سے سیاسی مراعات کے حصول کے لیے یرغمالی سفارت کاری ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اس ہولناک عمل کے اب سخت نتائج برآمد ہوں گے اور امریکا اس معاملے پر اپنے مؤقف پر پوری طرح قائم ہے۔
دیکھیے: ایران امریکہ جنگ: کیا پاکستان کی خارجہ پالیسی درست ہے؟