چین نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید تناؤ کو کم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسلام آباد پر زور دیا ہے کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کے عمل کو مزید تیز کرے۔
دفترِ خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی کے درمیان ایک اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔ اس گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے علاقائی صورتحال، خاص طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کی جاری کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
چین کی حمایت
رپورٹ کے مطابق وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے چینی ہم منصب کو پاکستان کی حالیہ ثالثی کوششوں اور واشنگٹن و تہران کے درمیان مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے اس مشکل مشن میں چین کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا اور مستقبل میں مزید قریبی رابطے برقرار رکھنے کی امید ظاہر کی۔
چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی نے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے اور عارضی جنگ بندی کو برقرار رکھنے میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان پورے اعتماد کے ساتھ اس عمل کو جاری رکھے گا تاکہ خطے میں پائیدار امن بحال ہو سکے۔
آبنائے ہرمز اور جنگ بندی
دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ عالمی معیشت اور علاقائی استحکام کے لیے آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کی بلا تعطل بحالی اور ایک پائیدار جنگ بندی ناگزیر ہے۔ چین نے یقین دلایا ہے کہ وہ پاکستان کی ان سفارتی کوششوں کی نہ صرف حمایت جاری رکھے گا بلکہ خود بھی اس امن عمل میں اپنا فعال کردار ادا کرے گا۔
پاک چین تعلقات کے 75 سال
ٹیلیفونک گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاک چین سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کی تقریبات اور اعلیٰ سطح کے وفود کے تبادلوں پر بھی بات چیت کی۔ دونوں جانب سے دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے اور تمام اہم معاملات پر مستقل رابطہ برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
تجزیاتی پس منظر
سیاسی مبصرین کے مطابق چین کی جانب سے پاکستان کو اس حساس معاملے میں کلیدی ثالث کے طور پر آگے لانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ بیجنگ اور اسلام آباد کا اسٹریٹجک ویژن ہم آہنگ ہے۔ پاکستان کا ایران اور امریکہ دونوں کے ساتھ رابطے میں ہونا اسے اس بحران کے حل کے لیے ایک منفرد اور مؤثر پوزیشن فراہم کرتا ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے راستے (آبنائے ہرمز) کو محفوظ بنا سکتا ہے۔