امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تجارتی اقدامات کو غیر قانونی قرار دیے جانے کے بعد چین نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دوسرے ممالک پر عائد کیے گئے یکطرفہ محصولات فوری طور پر منسوخ کرے۔
بیجنگ میں وزارتِ تجارت دفاع نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تجارتی جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا اور تحفظ پسندی کسی کے مفاد میں نہیں۔ چین نے واضح کیا کہ وہ امریکی عدالت کے فیصلے کے اثرات کا جائزہ لے رہا ہے اور واشنگٹن کو چاہیے کہ وہ اپنے تجارتی شراکت داروں کے خلاف اس نوعیت کے اقدامات سے گریز کرے۔
امریکی سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز 3 کے مقابلے میں 6 کی اکثریت سے فیصلہ سنایا کہ صدر ٹرمپ نے 1977 کے قانون کا غلط استعمال کرتے ہوئے محصولات عائد کیے، جس کا انہیں قانونی اختیار نہیں تھا۔ تاہم صدر ٹرمپ نے اس فیصلے پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے ایک مختلف قانونی اتھارٹی کے تحت درآمدات پر 15 فیصد عالمی ڈیوٹی نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کا اطلاق منگل سے ہوگا۔
چینی وزارتِ خارجہ نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ واشنگٹن کی جانب سے محصولات برقرار رکھنے کے لیے متبادل ‘تجارتی تحقیقات’ جیسے اقدامات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنے قومی مفادات کا ہر قیمت پر تحفظ کرے گا۔ یہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ آئندہ چند ہفتوں میں بیجنگ کا دورہ کرنے والے ہیں۔
دوسری جانب، امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے کہا ہے کہ عدالتی فیصلے کے باوجود چین اور یورپی یونین کے ساتھ موجودہ تجارتی معاہدے برقرار رہیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپریل میں صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی ملاقات تجارت کے بجائے دیگر امور پر مرکوز ہوگی۔
دیکھیے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے خلاف محدود فوجی کارروائی پر غور