اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں چینی مندوب نے ایران کے خلاف امریکی دھمکیوں پر سخت تنقید کی ہے، چینی مندوب نے خطے میں تباہ کُن جنگ کے خدشے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی دھمکیاں مشرق وسطی کو جنگ میں دھکیلنے کا سب بنیں گی۔
چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر امریکہ کی طاقت کے استعمال کی دھمکیاں فوری طور پر بند کی جائیں، کیونکہ ان سے مشرق وسطیٰ میں ایک اور تباہ کُن جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔
چین کے مستقل مندوب نے واضح انداز میں کہا کہ مسلسل دھمکیاں اور جارحانہ بیانات خطے میں عدم استحکام کا سبب بن رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کسی بھی ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف طاقت کے استعمال کی سخت مخالفت کرتا ہے۔ ایران ایک خودمختار ملک ہے اور ایرانی عوام کو اپنے فیصلے کرنے کا حق ہے۔
پاکستان اور روس کی حمایت
پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ موجودہ صورت حال تشویشناک ہے اور طاقت کے بجائے “سفارتکاری اور مکالمے” پر توجہ دینے کی ازحد ضرورت ہے۔
اسی طرح روس کے مندوب نے بھی امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ “کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت” کے مترادف ہے۔
عالمی ردعمل
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ ہفتوں میں تناؤ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق سلامتی کونسل میں چین، روس اور پاکستان کا یکساں مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ مغربی طاقتوں کی یکطرفہ کارروائیوں کے خلاف ایک واضح محاذ بن رہا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ چین کا یہ سخت بیان نہ صرف ایران کے حق میں سفارتی حمایت ہے، بلکہ یہ مشرق وسطیٰ میں اپنے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا بھی اعلان ہے۔