خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر کی وادی تیراہ سے متعلق مبینہ جبری انخلا کی خبروں کو سیکیورٹی اور مقامی ذرائع نے بے بنیاد، گمراہ کن اور زمینی حقائق کے منافی قرار دے دیا ہے۔
حال ہی میں بعض افغان، پی ٹی ایم اور فیک اکاؤنٹس کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ وادی تیراہ میں سیکیورٹی آپریشن کے باعث تقریباً 30 ہزار خاندانوں کو قلیل وقت میں زبردستی بے دخل کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں متاثرین کے پاس نہ رہائش کا بندوبست ہے اور نہ ہی ذریعہ معاش۔ تاہم مستند ذرائع کے مطابق یہ دعویٰ حقیقت کے برعکس ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی تیراہ سے سردیوں کے موسم میں نشیبی علاقوں کی جانب موسمی نقل مکانی ایک معمول کی روایت ہے، جس پر مقامی آبادی دہائیوں سے عمل کر رہی ہے۔ موجودہ نقل و حرکت بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے اور اسے جبری انخلا قرار دینا درست نہیں۔
KP Fact Check ✅
— Fact Check – KP Govt (@factcheckkpgovt) January 16, 2026
🟠 Claim:
FAK-, PTM- and Afghan-linked propaganda accounts claim that around 30,000 families in Tirah Valley are being forcibly evacuated on short notice because Pakistani soldiers are carrying out an operation, leaving them with no place to go, no means of… pic.twitter.com/gD0UQFkJJp
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بعض خاندانوں کی عارضی منتقلی سیکیورٹی خدشات کے تحت کی جا رہی ہے، جس کی وجہ علاقے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر شدت پسند عناصر کی موجودگی ہے۔ یہ منتقلی مقامی جرگوں، قبائلی عمائدین اور کمیونٹی کی مشاورت اور رضامندی سے عمل میں آ رہی ہے، تاکہ عام شہریوں کو کسی ممکنہ نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔
ذرائع نے بتایا کہ وادی تیراہ کے عوام مجموعی طور پر دہشت گرد عناصر کے خلاف جاری سیکیورٹی کارروائیوں کی حمایت کر رہے ہیں، کیونکہ ان اقدامات کا مقصد علاقے میں امن، استحکام اور شہریوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ حکام دانستہ طور پر گنجان آباد علاقوں میں بڑے پیمانے پر آپریشن سے گریز کر رہے ہیں، کیونکہ ماضی میں شدت پسند گروہ آبادی کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پی ٹی ایم اور بعض افغان عناصر اس معمول کی موسمی نقل مکانی اور احتیاطی سیکیورٹی اقدامات کو زبردستی بے دخلی کے طور پر پیش کر کے ریاستی کوششوں کو بدنام کرنے اور مقامی آبادی میں بداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ وادی تیراہ سے متعلق یہ تاثر کہ لوگ داعش خراسان یا کسی بڑے آپریشن کے باعث جبری طور پر بے دخل ہو رہے ہیں، سراسر غلط اور جھوٹ پر مبنی ہے۔ موجودہ نقل و حرکت یا تو موسمی نوعیت کی ہے یا پھر مقامی آبادی کی رضامندی سے کی جانے والی عارضی اور حفاظتی منتقلی، جس کا واحد مقصد شہریوں کا تحفظ اور علاقے میں امن کا قیام ہے۔